انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 560
تغییر حضرت خلیفة المسح الثالث سورة النساء ذریعہ اللہ تعالیٰ نے عطا کی ہیں ان بشارتوں کی روشنی میں یہ جنت ہمارے لئے صدیوں تک قائم رہنی چاہیے۔اگر ہم اپنی ذمہ داری کو نباہنے والے ہوں ہم مرد بھی اور ہماری مائیں اور ہماری بیویاں اور ہماری بہنیں اور ہماری دوسری رشتہ دار عورتیں بھی تو اللہ تعالیٰ کا ہم سے یہ وعدہ ہے کہ وہ اس جنت کو اس دنیوی جنت کو بھی ہمارے لئے ایک قسم کی ابدی جنت بنا دے گا لیکن اس کے لئے شرط یہی ہے کہ عورت اپنے بچوں کی صحیح تربیت کی طرف پوری طرح متوجہ رہے۔اس کے لئے شرط یہ ہے کہ وہ اس معنی میں مطہرہ ہوں کہ کوئی بد رسم ان کے گھروں میں نہ ہو اور کسی مشرکانہ بدعت کے ساتھ ان کو کوئی تعلق باقی نہ رہے خالص توحید کا ماحول پیدا کرنے والی ہوں اور اس خالص تو حید کے ماحول میں اپنے بچوں اور بچیوں کی تربیت کرنے والی ہوں۔خطبات ناصر جلد اول صفحه ۵۹۵،۵۹۴) آیت ۵۹ يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اَطِيْعُوا اللَّهَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي ج الاَمرِ مِنْكُمْ فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ إِنْ كُنتُم تُؤْمِنُونَ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ذَلِكَ خَيْرٌ وَ اَحْسَنُ تَأْوِيلًا (۵۹) دوسری ذمہ داری جو ایک احمدی کی ہے اور جس کے متعلق شروع سے ہی جماعت کی تربیت کی جا رہی ہے وہ یہ ہے کہ قانون ملکی کو کبھی اپنے ہاتھ میں نہیں لینا۔ہمارے متعلق لاء ابائیڈ نگ پیپل ( Law Abiding People) کہا جا سکتا ہے کہ ہم قانون کی پابندی کرنے والے اور قانون کے مطابق اپنی زندگیوں کو گزارنے والے ہیں۔آیت کا جو چھوٹا سا ٹکڑا میں نے سورۃ فاتحہ کے بعد پڑھا تھا اس میں اولی الامر کے لفظ میں اس طرف اشارہ ہے کہ ( تیسری بات جو میں کہنا چاہتا ہوں وہ بھی میں اس کے ساتھ ہی شامل کر لیتا ہوں) ایک تو ہم لاء ابائیڈنگ پیپل ( Law Abiding People) یعنی قانون کے پابند اور قانون کی اطاعت کرنے والے لوگ ہیں اور دوسرے جن کو قانون صاحب اختیار بناتا ہے ہم اُن کی اطاعت اور فرمانبرداری کرتے ہیں۔یہ بھی اسی کے اندر آ جاتا ہے یعنی قانون کی اطاعت کرنا اور قانون شکنی سے بچنا ہی یہ تقاضا کرتا ہے کہ جن لوگوں کو قانون نے حکومت کا اختیار دیا ہے قانون کے اندر رہتے ہوئے اُن کی بھی اطاعت کی جائے۔اُن کا یہ فرض ہے کہ وہ قانون کے خلاف کوئی کام نہ کریں اور قانون کے خلاف کوئی حکم نہ دیں اور ہر شہری کا یہ فرض