انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 554 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 554

۵۵۴ سورة النساء تغییر حضرت خلیفة المسح الثالث رضا کی جنتوں میں لے کے جائے ، وہ زمانہ اتنا لمبا اور وہ جزا اتنی ہے کہ اس کو غیر محدود کہنا غلط نہیں ہوگا۔تو محدود اعمال ہیں ایک طرف پڑے ہوئے دارالا بتلا میں اور ایک طرف ایسی زندگی ہے جس کی نعمتیں غیر محدود ہیں اس کا انتظام کر دینا محدود اعمال کی غیر محدود جزا کا اعلان کر دینا کتنی بڑی سہولت پیدا کر دی۔اگر انسان کو یہ کہا جاتا کہ جتنے عمل کرو گے اتنے ہم سے انعام لے لینا تو وہ تو پھر بعض روحانی طور پر بعض بہکے ہوئے دماغوں کی طرح ان کو پھر دار الابتلا میں آنا پڑتا۔پھر یہ مصیبتیں جھیلنی پڑتیں۔پھر کچھ عرصہ جنتوں میں گزارنا پڑتا۔پھر واپس آنا پڑتا اور اس دنیا کی جو نیکیاں ہیں میں تو سمجھتا ہوں کہ ساری عمر کی نیکیاں جو ہیں وہ خدا تعالیٰ کے پیار کے ایک جلوہ جو ہے اس کی قیمت بھی ادا نہیں کرسکتیں تو ستر سال کی زندگی دار الا بتلا اس دنیا میں اور اس کے مقابلے میں ایک سیکنڈ کی زندگی جنت میں اور پھر وہ واپس آ جائے یہاں ستر سال گزارنے کے لئے پھر تو ایسا انتظام کرنا چاہیے تھا نا ليكن يُرِيدُ اللهُ اَنْ يُخَفِّفَ عَنْكُمْ وَخُلِقَ الْإِنْسَانُ ضَعِيفًا انسان کو خدا تعالیٰ نے ضعیف اس جہت سے بھی بنایا کہ وہ اپنی محدود زندگی میں غیر محدود اعمال صالحہ بجا نہیں لا سکتا۔خُلِقَ الْإِنْسَانُ ضَعِيفًا ا ہو گیا نا۔انسان کو اتنی زندگی دی کہ اس کے اعمال جتنا مرضی زور لگا لیں اس کے اعمال صالحہ غیر محدود نہیں ہو سکتے لیکن جو انعامات دیئے گئے جن کا وعدہ دیا گیا وہ غیر محدود ہیں تو یہ سہولت پیدا کر دی گئی انسان کے لئے۔جو تم محدود عمل کرو گے اس کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ اپنے پیار کا یہ جلوہ ظاہر کرے گا کہ غیر محدود انعامات کا تمہیں وارث بنادے۔لیکن میں نے بتایا ہے کہ یہ میں نے موٹے موٹے اصول چار جو مجھے نظر آئے وہ میں نے لئے ہیں ورنہ اسلام کا ہر حکم ہمیں یہ بتاتا ہے اور یہ حقیقت ہمارے اوپر کھولتا ہے کہ يُرِيدُ اللهُ أَنْ يُخَفِّفَ عَنْكُم الله تعالیٰ نے یہ ارادہ کیا ہے کہ ہمارے لئے سہولت کا سامان اور آسانی کا سامان پیدا کرے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ انسان ضعیف ہے اور وہ اس معیار کو نہیں پہنچ سکتا کہ جس کے اوپر یہ ہم کہہ سکیں کہ جو جنتیں ہیں وہ اس کے اعمال کے نتیجہ میں اس کو ملیں گی۔(خطبات ناصر جلد هشتم صفحه ۱۲۹ تا ۱۳۶ ) آیت ۳۵ اَلرِّجَالُ قَوْمُونَ عَلَى النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللهُ بَعْضَهُمْ عَلَى b بَعْضٍ وَبِمَا اَنْفَقُوا مِنْ اَمْوَالِهِمْ ، فَالصَّلِحْتُ قَنِتَتَ حَفِظْتُ لِلْغَيْبِ