انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 50
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث سورة الفاتحة نائیجیریا میں تھے۔وہاں سے اُن کا کسی اور ملک میں تبادلہ ہوا تو وہ ایک احمدی دوست سے کہنے لگے کہ خاموشی کے ساتھ مگر نہایت تندہی کے ساتھ جماعت احمدیہ نائیجیریا میں تبلیغ اسلام کا کام کر رہی ہے۔اب دیکھو وہ خود احمدی نہیں ہے لیکن اس کا تاثر یہ تھا کہ جماعت احمد یہ ترقی کر رہی ہے۔تاہم جماعت احمدیہ نہ تو خاموشی سے کام کر رہی ہے اور نہ دنیا کی واہ واہ اس کے مد نظر ہے۔ہم نے لا نُرِيدُ مِنْكُمْ جَزَاء وَلَا شُكُورًا (الدھر:۱۰) کی رُو سے دُنیا سے یہ نہیں کہنا کہ وہ ہمارا شکر ادا کرے۔پس یہ ہے ہمارا علم اور یہ ہے ہمارا لائحہ عمل۔ہم دنیا سے نہ شکر گزاری کے متمنی ہیں اور نہ کسی سے کوئی بدلہ مانگتے ہیں۔ہم تو خدا تعالیٰ کے بندے بن کر بنی نوع انسان کی خدمت کے لئے میدانِ جہاد میں برسر پیکار ہیں۔خدا نے فرمایا کہ میں جن و انس اور انسان اور غیر انسان کا رب ہوں۔ہم اپنے ملک سے باہر نکلے اور ہم نے کہا کہ اپنے رب کی اس صفت کا صحیح مظاہرہ بھی ہوسکتا ہے کہ جب ہم دنیا کے کونے کونے میں پہنچ کر اپنے رب سے کہیں کہ ہمیں جتنی طاقت ہے اتنے ہم پھیلے اور تیری ربوبیت کے جلوؤں میں اپنی حقیری کوشش ہم نے بھی شامل کر دی۔اے خدا تو اپنے فضل سے ہماری حقیر کوششوں کو قبول فرما اور ان کے بہترین نتائج پیدا کر۔پس یہ ہے ہمارا پروگرام اور یہ ہے ہماری کوششوں کا منتہائے مقصود۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں رحمان ہوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تم سے کسی چیز کا اجر نہیں مانگتا یہ رحمانیت کے معنی اور مفہوم کا بنیادی تصور ہے۔یعنی بغیر کسی عوض کے خدمت کرنا اور مخلوق خدا پر رحم کرنا۔جو شخص خدا تعالیٰ کا سچا عاشق ہے اور اس کے جلوؤں کو دیکھتا ہے اور اس کی صفات کی معرفت رکھتا ہے اور اس کا یہ بھی فرض ہے کہ وہ اس صفت سے متصف ہو اور بنی نوع انسان کی خدمت بغیر کسی اجر کے کرتا رہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے۔گالیاں سن کر دُعا رو اب گالی دینا کوئی خدمت تو نہیں جس کے بدلے میں کسی کو دُعا دی جائے کہ گویا کسی کی خدمت کا بدلہ اُتارا جا رہا ہے۔بلکہ وہ تو خدمت کی ایک بھیانک شکل میں نفی ہے مگر گندہ دہانی کرنے والا شخص جس کی گندہ دہانی اپنی انتہاء کو پہنچی ہوئی ہو وہ بھی یہ یادر کھے کہ وہ ہمارے احسان سے بچ نہیں سکتا۔وہ اپنی محفلوں کو ہمیں گالیاں دے کر سجاتا ہے۔ہم اپنی راتوں کو ان