انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 553
تغییر حضرت خلیفة المسح الثالث ۵۵۳ سورة النساء نظر انداز کر دینا اس کی اجازت نہیں۔خدا تعالیٰ نے یہ نہیں کہا کہ حقوق العباد کو بھول کر چومیں گھنٹے حقوق اللہ کو ادا کرتے رہو یا حقوق اللہ کے ان حصوں کو جن میں ذکر الہی ہے مثلاً گناہگار بن جاتا ہے آدمی ، تو توازن کے اصول کو حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی میں قائم کر کے ایک نہایت حسین سہولت اور آسانی انسان کے لئے پیدا کی۔اسلامی تعلیم میں ایک توازن کا اصول ہے جس نے يُرِيدُ اللهُ أَنْ يُخَفِّفَ عَنْكُمْ کے ماتحت ہمارے لئے سہولت پیدا کی۔یہی حالت عبادات کی ہے پہلے تو حقوق اللہ اور حقوق العباد میں روحانی ترقیات کو تقسیم کر دیا۔حقوق العباد میں سینکڑوں باتیں آتی ہیں۔جذبات کا خیال رکھنا ہے، ان کی صحتوں کا خیال رکھنا ہے، ان کی بھوک کا خیال رکھنا ہے، ان کے کپڑوں کی ضرورت پوری کرنی ہے کہ جو عناصر ہیں وہ ان کو دکھ نہ پہنچائیں ان کی تعلیم کا خیال رکھنا ہے، ان کی کفو میں شادیاں ہونے کا خیال رکھنا ہے۔گنتے چلے جائیں سینکڑوں حکم ہیں اور سب میں ہر جگہ جب آپ دیکھیں گے وہ تو ازن آجاتا ہے۔ایک تو پہلے حقوق اللہ اور حقوق العباد میں توازن کر دیا۔یہ کہا کہ تم حقوق اللہ کی ادائیگی میں اتنے محونہ ہو کہ حقوق العباد کو بھول جاؤ۔یہی تو ازن ہے نا توازن اسی کا نام ہے اور یہ کہا کہ تم حقوق العباد کی ادائیگی میں اتنے محو نہ ہو کہ حقوق اللہ کو بھول جاؤ۔دونوں کے درمیان ایک توازن پیدا کر دیا۔یہ مضمون خود جو ایک اصول ہے بڑی تفصیل چاہتا ہے۔میں نے آپ کے سامنے کھانے کی ایک مثال پیش کی اور ساتھ آپ کو بعض روحانی باتوں کی طرف بھی توجہ دلا دی۔اچھا اسی میں یہ جو اصول توازن ہے اس میں مثلاً صدقہ خیرات ہے، اس میں جب ہم نوافل میں آگئے تو نوافل میں توازن رکھو قائم۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اپنے اموال کو نیکیوں میں اس طرح خرچ نہ کرو کہ تمہاری اولاد کو بھیک مانگ کر روٹی کھانی پڑے۔توازن قائم کر دیا نا۔اور چوتھا اصول سہولت جو ہمیں اسلام میں نظر آتا ہے وہ یہ ہے کہ اگر چہ امتداد زمانہ کے لحاظ سے دار الامتحان اور دار الابتلا کی زندگی انعام پانے والی اور اس کا نتیجہ حاصل کر کے زندگی جو انسان گزارے گا ان کے امتداد زمانہ کے لحاظ سے کوئی نسبت ہی نہیں۔اس دنیا کی زندگی میں سال کی، تیس سال کی، پچاس سال کی ، ساٹھ سال کی ، اسی سال کی سوسال کی یا کچھ اور سال بیچ میں شامل ہو جا ئیں لیکن جو مرنے کے بعد کی زندگی ہے جنت کی زندگی ، خدا تعالیٰ اپنے فضل سے ہم سب کو اپنی