انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 552
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۵۵۲ سورة النساء کے نوافل ہیں وہ یہ ہیں کہ دنیا میں اگر ایک شخص مالی تنگی میں ہے تو اُمت مسلمہ اس کی ذمہ دار ہے۔وَفِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِلسَّابِلِ وَالْمَحْرُومِ (الداريت: ۲۰) جب تک ایک سائل اور ایک محروم بھی ہے، ساری اُمت مسلمہ کا فرض ہے کہ اس کی ضرورت کو اس کی حاجت کو پورا کرے اور اس کی تکلیف کو رفع کرے۔وہ نوافل میں آتا ہے لیکن صاحب نصاب، نصاب دیتا ہے اور مالی قربانی کا جو فرض ہے وہ پورا کرتا اور خدا تعالیٰ کے پیار کو حاصل کرتا ہے۔جنت کا دروازہ جو ز کوۃ نے کھولنا تھا وہ اس کے لئے کھول دیا گیا۔جنت میں جو رفعتوں کے مقامات وہ حاصل کر سکتا ہے مالی قربانیوں کے نتیجہ میں وہ جتنا کرسکتا ہے، کرے۔اس میں ہمیں حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی نظر آتے ہیں کہ ایک وقت میں اسلام کو مال کی ضرورت پڑی تو گھر سے ہر چیز اُٹھا کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں ڈال دی۔آپ نے پوچھا گھر میں کچھ چھوڑ کے آئے ہو تو انہوں نے کہا خدا اور اس کے رسول کا نام چھوڑ کے آیا ہوں۔اس کے علاوہ مجھے کسی چیز کی ضرورت نہیں اور ہمیں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جیسے آدمی بھی نظر آتے ہیں جنہوں نے سوچا کہ آدھا گھر میں چھوڑ جاؤ آدھا لے جاؤ۔کسی نے بہت کسی نے کم لیکن وہ نوافل کی دوڑ تھی۔وہ فرائض کے بعد شروع ہوتی ہے تو یہ ایک ہمیں نظر آتی ہے۔میں نے غور کیا کہ ایک بڑی عظیم سہولت مسلمان کو دی گئی ہے کہ اس کی عبادات کو اور اس کے ادا ئیگی حقوق انسانی کو یعنی حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی میں فرض اور نفل دو علیحدہ علیحدہ بنیادی قسم کی ہر میدان میں، ہر میدان قربانی میں علیحدہ علیحدہ حقوق کی ادائیگی کی شکلیں بنا دیں۔ایک پاس ہونے کے لئے ، ایک اگر مقبول ہو جائیں ویسے نہیں، اگر مقبول ہو جائیں فرائض تو جنت کے دروازے کھل گئے لیکن جنت میں بھی رفعتیں ہیں۔جنت میں بھی بلند مقام ہیں۔جنت میں بھی خدا کے پیار پیار میں فرق ہے۔جنت میں بھی یہ سمجھنا کہ جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا کا پیار ملے گا ہر ایک کو ویسا ملے گا یہ تو ہماری عقل نہیں مان سکتی لیکن جنت میں ہر وقت دروازہ کھلا ہے ان رفعتوں کے حصول کا۔جنت میں رفعتوں کے حصول کا دروازہ کھلا ہے اس دنیا ئے ابتلا اور امتحان میں نوافل کی ادائیگی کے ساتھ اور وہاں خدا تعالیٰ نے احادیث میں آتا ہے کچھ اور اصول بنائے ہیں وہ اس وقت میرے زیر بحث نہیں۔تیسری سہولت ہمیں بنیادی سہولت جو ہر ہمارے عمل سے تعلق رکھتی ہے، وہ توازن کے اصول سے ہمیں سہولت عطا کی ہے یعنی ایک طرف پورا جھک جانا اور اس طاقت کو قریباً توڑ دینا اور دوسروں کو