انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 551
۵۵۱ سورة النساء تغییر حضرت خلیفة المسح الثالث سے زائد کچھ نہیں کروں گا۔تو آپ نے فرمایا کہ اگر یہ اپنی بات پر قائم رہا اور خدا تعالیٰ نے اس کی اسے توفیق بھی دی تو دَخَلَ الْجَنَّةَ خدا اسے جنت میں بھیج دے گا۔تو جنت میں داخل ہونے کے لئے فرائض ہمارے لئے رکھے۔جنت میں داخل ہو کر جنت میں جو ارفع مقامات ہیں، مقامات محمودہ ان کے حصول کے لئے نوافل رکھ دیئے اور اس طرح اُمت مسلمہ کے لئے آسانی پیدا کر دی کیونکہ ہر شخص جو ہے نہ اس میں اتنی طاقت ہے نہ اس میں اتنا جذبہ ہے۔ہر ایک کو کہا کہ کم از کم لے لو، کر لو تو خدا تعالیٰ کے پیار کو حاصل کر لو گے۔روزے ہیں۔بارہ مہینے میں سے ایک مہینے کے روزے رکھے۔چوبیس گھنٹے میں سے کبھی بڑا ہوتا ہے کبھی چھوٹا میں اوسط لے لیتا ہوں۔بارہ گھنٹے کا روزہ رکھ دیا یعنی بارہواں حصہ دنوں کے لحاظ سے اور پھر وہ جو صیام کے ، رمضان کے ایام ہیں ان کا آدھا وقت کھانے کے لئے دے دیا اور آدھا خدا کی خاطر اور حقوق کی یاد دہانی کے لئے اور روح کی پاکیزگی کے لئے اور معاشرہ میں محبت و اخوت پیدا کرنے کا سبق دینے کے لئے بہت ساری حکمتیں ہیں۔آدھا وقت روزہ کے لئے اور آدھا وقت جو ہے وہ کھانے کے لئے دے دیا۔اس سے مختلف ممالک میں مختلف رنگ میں مسلمان نے فائدہ اٹھایا۔میں مصر میں بھی کچھ عرصہ رہا ہوں وہاں کا طریق میں نے یہ دیکھا کہ افطاری سے لے کر سحری کھانے تک ساری رات بیٹھ کے باتیں بھی کرتے تھے اور ساری رات کھاتے رہتے تھے اور سحری کا جب وقت ہوتا تھا سحری کھاتے تھے اور ان کا روزہ شروع ہو جاتا تھا پھر افطاری تک سورج غروب ہونے تک وہ روزہ دار تھے۔تو کتنی آسانی پیدا کی۔حج ہے۔ساری عمر میں ایک حج فرض اور اس کی بھی بہت سی شرائط اور بنیادی ارکانِ اسلام میں سے ہے۔تو بڑی سہولت اور آسانی پیدا کی لیکن جن کو خدا تعالیٰ توفیق عطا کرے اگر وہ ہر سال حج کر سکتے ہوں دوسروں کا حق مارے بغیر کیونکہ اب کوٹا سسٹم بن گیا ہے اس لئے یہ فقرہ بولا ہے تو ہر سال حج کریں لیکن فرض حج جو ہے وہ ایک ہے باقی نفلی حج ہوں گے اور سارا سال عمرہ کرتے رہیں۔میں نے ایک جگہ کتاب میں پڑھا کہ جدہ میں رہنے والے بہت سے لوگ روزانہ ہی شام کو مثلاً دکاندار ہے تو دکان بند کر کے مکہ مکرمہ چلے جاتے ہیں اور عمرہ کر کے آ جاتے ہیں تو وہ نوافل ہیں۔زکوۃ ہے۔نصاب کے ماتحت دینی ہے جو صاحب نصاب ہے وہی دے گالیکن جو مال کے خرچ کرنے