انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 49
تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ۴۹ سورة الفاتحة ہے اور بڑی حیران بھی ہوتی ہے کہ ہمیں اس ملک میں اپنے آرام اور سکھ بھی عام لوگوں جتنے نصیب نہیں ہیں ہم ایک غریب قوم ہیں مگر خدا تعالیٰ کی رضا کو ہر حال میں دنیوی مرضیات پر ترجیح دیتے ہیں۔ہمارا زمیندار اگر ہفتہ میں ایک دفعہ مزیدار سالن کے ساتھ روٹی کھا سکتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ میں وہ بھی نہیں کھاتا میں اس لذت کو کھوتا ہوں آخر وہ کیا چیز ہے جو اس جذبہ کے پیچھے کام کر رہی ہے۔دنیا حیران ہے بعض دفعہ وہ ہمیں بیوقوف بھی سمجھتی ہے۔کیونکہ وہ خدا اور اُس کے حسن سے بے بہرہ ہے اور یہ امر ہمارے لئے غم اور افسوس کا باعث ہے کہ لوگ خدا کی صفات سے کیوں غافل ہیں۔پس ہمارے پروگرام بنی نوع انسان کی خدمت کے لئے ہیں اور ہمیں اس کی طرف توجہ دینی چاہیے۔بعض جاہل اور کم علم لوگ مجھے بھی لکھ دیتے ہیں کہ اپنے ملک میں تو کچھ نہیں کرتے اور غیر ملکوں میں توجہ دیتے ہیں۔ہم تو پیدا ہی اس لئے ہوئے ہیں کہ غیروں کی خدمت کریں۔اگر غیروں سے تمہاری مراد باہر کے ممالک ہیں تو وہ بھی مستثنی نہیں ہو سکتے۔ہمیں پیدا ہی اس لئے کیا گیا ہے کہ ہر وہ جگہ جس میں اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کے جلوے نظر آتے ہیں وہاں ہم پہنچیں اور اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کے جلوؤں کے ساتھ اپنی استعداد کے مطابق اپنی ربوبیت کے تھوڑے بہت جلوے بھی شامل کر دیں۔پھر خدا تعالیٰ چونکہ بڑا مہربان ہے وہ کہتا ہے میرے بندوں نے سب کچھ کیا ہے حالانکہ کیا اُس نے خود ہوتا ہے لیکن وہ اپنی رحمت سے ہمارے لئے برکتوں کے سامان پیدا کر دیتا ہے۔میں نے کل آپ کو بتایا تھا پندرہ مہینے میں طبی مراکز اور سکولوں کی آمد پنتالیس لاکھ روپے تک پہنچ گئی ہے۔فالحمد لله على ذلك۔پھر اسی آمد میں سے ہم نے خرچ کیا گو ابتدائی خرچ تو اس پیسے میں سے ہوا تھا جو جماعت نے نصرت جہاں ریز روفنڈ میں دیا تھا لیکن بعد میں اصل سرمایہ واپس آگیا اور آمد میں سے خرچ کیا گیا۔دنیا کہتی ہے جماعت احمدیہ نے خرچ کیا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے فضل کا نتیجہ ہے۔ایک ملک کے ہائی کمشنر ( مصلحت میں ملک کا نام نہیں لوں گا ) نے کہا جس رنگ میں جماعت احمد یہ کام کر رہی ہے ہم نے یہ اندازہ لگایا ہے کہ اگلے آٹھ سال میں ہمارے ملک کی ۸۰ فیصد آبادی احمدی ہو چکی ہوگی اور اس نے یہ بھی کہا کہ میں نے تو اپنے بیٹے کو کہہ دیا کہ ابھی سے احمدیت میں داخل ہو جاؤ آٹھ سال کے بعد احمدی ہوئے تو کوئی مزہ نہیں ہوگا۔ایک پاکستانی دوست