انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 536
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۵۳۶ سورة ال عمران پہلی بات ان آیات سے ہمیں یہ پتالگتی ہے کہ آسمان اور زمین کی پیدائش یعنی کائنات کی ہر شے ایک آیت ایک نشان ہے۔ایک ایسی چیز ہے جو ہمیں پتا بتاتی ہے حقائق کا۔جو ہمیں پتا دیتی ہے اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات اور اس کی عظمت اور اس کے جلال اور اس کی قدرت کا۔ہر چیز ہماری راہنمائی کر رہی ہے ہمارے پیدا کرنے والے رب کی طرف اور صرف مادی اشیاء ہی نہیں بلکہ اس کائنات کو ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے دو حصوں میں تقسیم کیا۔ایک تو مادی اشیاء ہیں جن کو آسمانوں اور زمینوں کی پیدائش سے تعبیر کیا گیا ہے اور دوسرے زمانہ ہے اور اس کو وَ اخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ سے تعبیر کیا گیا ہے۔زمانہ اپنے اثرات دکھاتا ہے ان جہانوں میں اور زمانہ سے پیدا ہونے والا ہر اثر ہمیں کوئی سبق دے رہا ہے۔ہمیں کچھ سکھاتا ہے ہماری رہنمائی اور رہبری کرنے والا ہے تو یہاں یہ فرمایا کہ یہ کائنات جو ہے اس کے ہر دو حصے مادی حصہ بھی اور زمانہ بھی جو اپنی ذات میں ایک حقیقت ہے۔زمانے کے اثرات مادی دنیا پر ہوتے ہیں مثلاً ان کا بڑا اور چھوٹا ہونا ہماری فصلوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔بعض ایسے پودے ہیں جن کے لئے دنوں کا چھوٹا رہنا ضروری ہے۔بعض ایسے پودے ہیں جن کے لئے چھوٹے دنوں کا اور لمبی راتوں کا ہونا ضروری ہے۔بعض ایسے پودے ہیں جن کے لئے لمبے دنوں کا اور چھوٹی راتوں کا ہونا ضروری ہے۔بعض ایسے پودے ہیں جن کیلئے سورج کی روشنی اور اندھیرے کی ایک جیسی لمبائی کا ہونا ضروری ہے۔تو یہ زمانہ سے تعلق رکھتا ہے۔زمانہ ہر آن حرکت میں ہے اور فاصلے کی نسبتوں کو قائم کرنے والا ہے۔کس قدر تیزی سے کوئی چیز چل رہی ہے یا کتنی دور ہے کوئی چیز۔اس وقت اختصار کے ساتھ زمانہ کے متعلق اس حقیقت کو بیان کر دینا کافی ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ انسان کو ہم نے دو طاقتیں دی ہیں ایک ذکر کی اور ایک تفکر کی اور جو عقل مند ہیں خالص اور صحیح عقل رکھنے والے عقل اور کب میں یہ فرق ہے۔عقل میں جب ہوائے نفس شامل ہو جائے اور وہ خالص نہ رہے تب بھی عربی زبان اسے عقل ہی کہتی ہے مثلاً آج کی مہذب دنیا جو دنیا میں ڈوب گئی اور خدا کو بھول گئی وہ بھی عربی زبان کے لحاظ سے عقلمند کہلائیں گے اگر چہ ان کی عقل میں ان کی ادنی خواہشات اور میلان نفس کی بھی بڑی ملاوٹ آگئی اور انہوں نے اپنی تسلی کے لئے گراوٹوں میں لذتیں محسوس کرنی شروع کر دیں اور اس کا جواز پیدا کرلیا اور اس حد تک چلے گئے یہ عقلمند کہ