انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 509 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 509

تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث سورة ال عمران متعلق حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں۔میں نے تجاویز پیش کرنے کا جو طریق رکھا تھا وہ اس خیال سے رکھا تھا کہ تجاویز میرے پاس آئیں گی اور میں ان میں سے جو مفید سمجھوں گا وہ لے لوں گا مگر اب یہ صورت ہوگئی ہے کہ جس کی تجویز نہ لی جائے وہ سمجھتا ہے کہ اس کا حق مارا گیا۔(رپورٹ مجلس شوری ۱۹۳۰ء) تو جن اہم امور کے متعلق مشورہ دینا ہے یہ امور ایسے ہونے چاہئیں جن کا تعلق نصوص قرآنیہ یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے واضح جوار شاد ہیں ان کا ان سے تعلق نہ ہو وہ تو ایک قانون ہے جس کو دنیا کی کوئی طاقت بدل نہیں سکتی اس میں انسان کی بہتری ہے اس رنگ کی جمہوریت جو آج کل مقبول ہو رہی ہے وہ نہ یہ کہ اسلام میں نہیں بلکہ اسلام اسے ناپسند کرتا ہے اور اسلام نے مسلمان کی آزادی قرآن کریم کی شریعت کے احاطہ کے اندر رکھی ہے اس سے باہر نہیں آج کی جمہوریت کا تو یہ حال ہے کہ انگلستان کی جمہوریت نے عوام کے نمائندوں نے یہ قانون پاس کر دیا ہے کہ بداخلاقی جائز ہے اس قسم کی جمہوریت اسلام کیسے پسند کر سکتا ہے؟ اور اگر آج کی جمہوریت کے مطابق اسلام مسلمانوں کو آزادی دیتا تو کسی وقت میں اپنے تنزل کے زمانہ میں مسلمان بھی اس قسم کی باتیں کر لیتے۔اگر اس قسم کی جمہوریت مسلمانوں میں ہوتی تو اکثریت نے تو کہہ دیا تھا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو کہ زکوۃ لینے میں کچھ ڈھیل کر دی جائے مگر خدا کے اس پیارے بندے نے یہ کہا تھا کہ میں تمہارا نائب نہیں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا نائب اور خلیفہ ہوں اور آپ کی نیابت میں جو میرے حقوق ہیں وہ حقوق تم سے منواؤں گا اور دین کے معاملہ میں تمہارے کسی مشورہ کو سننے کے لئے تیار نہیں ہوں کل ( تو نہیں مجھے کہنا چاہیے لیکن گزشتہ کل جو گزر چکی تھی ) جب اسلام ۱۸ ویں صدی میں اپنے تنزل کی انتہائی گہرائیوں میں پڑا ہوا تھا اس وقت جب شاید ننانوے فی صدی یا اس سے بھی زائد مسلمان تارک الصلوۃ تھے اگر رائے عامہ کی جاتی تو بھاری اکثریت یہ کہتی کہ زمانہ بدل گیا اب اس قسم کی نمازیں پڑھنے کی ضرورت نہیں چلو نمازیں معاف ، تو اس قسم کی جمہوریت جو ہے اسلام اس کا قائل نہیں اور جب تک خلفاء، نبی کے بعد اس کی نیابت میں اسلام کے کاموں کے ذمہ دار ٹھہرائے جاتے ہیں وہ ان باتوں کے متعلق کسی سے بھی مشورہ نہیں کرتے ہاں جب کوئی الجھن پیدا ہو جائے تو وہ اپنے رب کے حضور جھکتے اور اس سے راہنمائی حاصل کرتے ہیں اور وہ ہمارا پیارا رب ایسے اوقات میں