انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 508 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 508

تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالثة ۵۰۸ سورة ال عمران تمام جماعتوں کو مرکز میں جمع کرنا قریباً ناممکن ہے اس لئے سب کو اکٹھا کر کے تو مشورہ نہیں لیا جا سکتا پھر کن سے مشورہ لیا جائے اور ان کا انتخاب کس رنگ میں ہو؟ یہ کام بھی جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے ظاہر ہوتا ہے خلیفہ وقت کا ہے چنانچہ یہ جو آل عمران ہی کی آیت کا ایک حصہ جو پہلے میں نے پڑھا تھا يَقُولُونَ هَلْ لَّنَا مِنَ الْأَمْرِ مِنْ شَيْءٍ اس سے بھی پتہ لگتا ہے کہ بعض لوگوں کو خاص طور پر مشورہ سے باہر رکھا جاتا تھا اگر ایسا نہ ہوتا تو وہ یہ نہ کہتے يَقُولُونَ هَلْ لَّنَا مِنَ الْأَمْرِ مِنْ شَيْءٍ تو بعض ایسے لوگ جن کے متعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سمجھتے تھے کہ ان میں نفاق پایا جاتا ہے یا یہ دل کے مریض ہیں روحانی طور پر اور معاملہ ایسا ہے کہ ان لوگوں کے سامنے رکھا نہیں جانا ہیے تو ان لوگوں کے سامنے وہ معاملہ نہیں رکھتے اور ان کا مشورہ بھی نہیں لیتے تھے گواگر اس قسم کے امور نہ ہوں تو پھر کھلم کھلا جو منافق ہو بعض دفعہ ان سے بھی مشورہ لے لیا جا تا۔اس میں کوئی حرج نہیں ہوتا کیونکہ فیصلہ تو بہر حال نبی نے یا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نیابت میں خلیفہ نے ہی کرنا ہے تو ھم جو کہا گیا ہے اس کا فیصلہ خلیفہ وقت نے کرنا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت بھی یہی ہے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کا ارشاد بھی یہی ہے بعض لوگوں کو روکا جاسکتا ہے اور ان کی نمائندگی کو ر ڈ کر دیا جا سکتا ہے آپ شوری کی ایک تقریر میں فرماتے ہیں۔جو لوگ لڑا کے اور فسادی ہوں، نمازوں کی پابندی کرنے والے نہ ہوں ، جھوٹ بولنے والے ہوں ، معاملات میں اچھے نہ ہوں ، بلا وجہ ناجائز افتراء اور اعتراض کرنے والے ہوں یا منافق یا کمزور ایمان والے ہوں ان کو بطور نمائندہ انتخاب کرنا جماعت کی جڑ پر تبر رکھنا ہے۔ہمارے لئے وہی لوگ مبارک ہیں جن کے اندر دین اور تقویٰ ہے خواہ وہ اچھی طرح بول بھی نہ سکتے ہوں۔۔۔۔۔۔في الأمر مشورہ جن سے کرنا ہے وہ بھی خلیفہ وقت کو اختیار دیا گیا ہے اور جن معاملات میں کرنا ہے وہ بھی خلیفہ وقت نے کرنا ہے کہ الآمر سے کیا مراد ہے اور وہ جو پہلے میں نے آیت پڑھی تھی اس کے اس ٹکڑہ سے یہ بھی استدلال ہوتا ہے وہاں دراصل دو استدلال ہوتے ہیں ایک یہ کہ ہم سے مشورہ نہیں لیا جاتا هَلْ لَّنَا مِنَ الْأَمْرِ مِنْ شَيْءٍ کہ جن امور کے متعلق مشورہ لیتا ہے۔نبی یا خلیفہ وقت اس کی نیابت میں اس کا فیصلہ ہم سے پوچھ کر نہیں کیا جاتا بلکہ خود کر دیا جاتا ہے کہ الامر کیا ہے؟ اس کے