انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 507 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 507

۵۰۷ سورة ال عمران تغییر حضرت خلیفہ المسح الثالث نے بھی ،شریعت نے بھی اور ملک کے قانون نے بھی دیا ہے کہ وہ کہے کہ میں اپنا یہ سوروپیہ وصول نہیں کرتا اگر جماعت کو یا اس کے بعض گروہوں کو یا افراد جماعت کو بحیثیت افراد کے یہ حق دیا جاتا اور یہ ان کا حق تسلیم کیا جائے تو کہہ سکتے ہیں وہ ہمارا حق ہے ہم اسے استعمال نہیں کرتے ہم خلیفہ وقت کو کوئی مشورہ نہیں دیں گے لیکن اس کے برعکس اگر مشورہ لینے کا حق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی نیابت میں آپ کے خلفاء کا ہے تو پھر کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ جب مجھ سے مشورہ مانگا جائے مشورہ کیلئے مجھے بلایا جائے میری مرضی ہے جاؤں مشورہ دوں یا نہ دوں اس لئے کہ یہ حق خلیفہ وقت کا ہے اور جماعت پر یہ حق ہے خلیفہ وقت کا کہ جب جن لوگوں کو جن امور کے متعلق وہ مشورہ کیلئے بلائے وہ اس کے کہنے اور ہدایت کے مطابق اس کے سامنے اپنے مشورہ کو رکھیں۔شَاوِرُهُمْ ان سے سوال پیدا ہوتا ہے کن سے؟؟؟ تو اس میں بھی ٹھنڈ کے فیصلہ کرنے کا حق خلیفہ وقت کو نبی اکرم کی نیابت میں ہے۔اور کن سے مشورہ کرنا ہے اور جن سے مشورہ کرنا ہے اگر ان کا انتخاب ہونا ہو تو کس طریق سے ان کا انتخاب ہوگا یہ فیصلہ بھی خلیفہ وقت نے ہی کرنا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں آپ کے اُسوہ میں بھی ہمیں یہی نظر آتا ہے بعض مواقع پر جب مسلمان تھوڑے تھے اور قریباً بہت بھاری اکثریت مدینہ میں بھی رہتی تھی تو اس وقت مسلمانوں کا سواد اعظم مدینہ میں رہائش پذیر تھا اس وقت چند سو جو تھے وہی سواد اعظم بن جاتا تھا تو آپ سب کو اکٹھا کر لیتے تھے اور ایک چھوٹی بے تکلف برادری تھی اس میں وہ اکٹھے ہوتے اور آپ کو مشورہ دیتے تھے جو آپ فیصلہ کرتے خدا کیلئے اپنا سب کچھ قربان کر کے آپ کے فیصلہ کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کرتے اور بعض دفعہ آپ نے صرف چند آدمیوں کو بلا کے بھی مشورہ لیا ہے اور بعض دفعہ دوسروں کو صرف یہ پتہ لگا بعض قرائن سے کہ فلاں فلاں شخص مسجد میں مشورہ کے لئے روک لئے گئے۔نہ خود آپ نے اعلان کیا کہ میں نے مشورہ کرنا ہے ایک موقع پر صرف دو آدمیوں کو کہا عشاء کے بعد کہ تم ٹھہرے رہو میں تم سے بات کرنا چاہتا ہوں کیا بات تھی؟ اس کا ہمیں آج تک نہیں پتہ تو مشورہ کا یہ طریق بھی ہوتا ہے۔تو ھم کا یہ فیصلہ کرنا ہاں جب مسلمان سارے عرب میں پھیل گئے تو اس کے بعد سواد اعظم سے مشورہ کرنے کا سوال ہی باقی نہیں رہتا۔ساری دنیا میں پھیل گئے۔آج بھی خدا کے فضل سے جماعت احمد یہ دنیا کے کونے کونے میں پائی جاتی ہے اور مشورہ کے لئے جماعت احمدیہ کی