انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 45 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 45

تفسیر حضرت خلیفہ امسح الثالث ۴۵ سورة الفاتحة میرے دل میں تمہارے لئے موجزن ہے۔پس اس سے ظاہر ہوا کہ آپ کے فیوض و برکات کا کوئی بدل اور اجر نہیں ہے اور آپ رحمانیت کے بھی مظہر اتم ہیں۔خدا کی تیسری صفت صفت رحیمیت ہے۔آپ صفت رحیمیت کے بھی مظہر اتم ہیں۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق فرمایا كَانَ بِالْمُؤْمِنِينَ رَحِيمًا (الاحزاب: ۴۴) یعنی مومنین کے لئے آپ کی ذات بحیثیت رحیم کے ہے۔مال کو ضائع ہونے سے بچانا۔نیکیوں کا اجر دینا، یہ صفت رحیمیت باری تعالیٰ میں اصل ہے۔اس کے مقابلہ میں فرمایا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) بھی تمام بنی نوع انسان کے لئے رحیم ہیں۔جو شخص خدا کی آواز پر لبیک کہتا ہوا (خواہ وہ کسی زمانے یا کسی ملک یا کسی قوم کا فرد ہو ) حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں آجائے گا اور آپ کی اتباع کرے گا اور آپ کی ہدایت اور شریعت کا جوا اپنی گردن پر رکھے گا۔اس کا عمل ضائع نہیں ہو گا۔اس کا اُسے ثمر مل جائے گا۔یا کم از کم اس کے ثمرہ کا استحقاق ضرور پیدا ہو جائے گا۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔" آپ کے صحابہ نے جو منتیں اسلام کے لئے کیں اور ان خدمات میں جو تکالیف اٹھائیں وہ ضائع نہیں ہوئیں۔بلکہ اُن کا اجر دیا گیا۔(احکام ۱۰ راگست ۱۹۰۳ صفحه ۲۰) گویا آپ کی دعاؤں کے نتیجہ میں اور آپ کی قوت قدسیہ کے ذریعہ ثمرہ کا استحقاق پیدا ہو جائے گا۔خدا تعالیٰ کی چوتھی صفت مالک یوم الدین ہے اور یہ بھی اُتم الصفات میں سے ہے۔اس کے متعلق بھی قرآن کریم نے دعویٰ کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مالکیت یوم الدین کے کامل اور اتم مظہر ہیں۔چنانچہ قرآن کریم کی کئی آیات میں اس کا ذکر ہے۔اس وقت میں ایک آیت پڑھوں گا۔قرآن کریم نے کہا۔إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحاً مبينا (الفتح : ٢ ) اور اس فتح مبین اور فتح عظیم کی ایک بڑی زبر دست متجلی فتح مکہ کے موقع پر ظاہر ہوئی۔اس دن ایک مالک اور قادر کی حیثیت سے (اللہ تعالیٰ کے مظہر ہونے کی حیثیت سے اس میں کوئی شک نہیں) آپ مکہ میں فاتحانہ طور پر داخل ہوئے۔عدل کرنے کے لئے بلکہ مالکیت کا جلوہ دکھانے کے لئے مکہ کی سرزمین میں قدم رکھا۔وہ لوگ جنہوں نے مگی زندگی کے تیرہ سال آپ کو اور آپ کے متبعین کو انتہائی تکالیف اور دُکھ پہنچائے تھے اُن سے کہا بتاؤ میں تمہارے ساتھ کیا سلوک کروں؟ انہوں نے کہا ہم آپ سے اسی سلوک کی توقع رکھتے ہیں جو