انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 502
۵۰۲ سورة ال عمران تغییر حضرت خلیفہ المسح الثالث سے جو کوتاہیاں سرزد ہو گئی ہیں اُن کے بداثرات سے بھی ہمیں بچا اور ہمارے لئے ایسے سامان پیدا کر کہ ہمارے اندر بشری کمزوریوں کی وجہ سے جو کوتاہیاں پیدا ہو سکتی ہیں وہ بھی پیدا نہ ہوں۔اگر تم یہ دعا کرو گے اور اللہ تعالیٰ جب اس دُعا کو قبول فرمائے گا تو تمہارے اندر دھن یعنی کمزوری پیدا نہیں ہوگی۔دوسرا خطرہ ضعف کے پیدا ہو جانے کا ہے یعنی ضعف کے نتیجہ میں زیادتیاں نہ ہونے لگ جائیں۔اس کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ نے یہ دعا سکھائی وَ اِسْرَافَنَا فِي أَمْرِنَا کہ اے ہمارے خدا! ہماری زیادتیاں معاف فرما میں نے بتایا کہ ضعف کی حالت میں مومن انسان بعض دفعہ زیادتی کا مرتکب ہو جاتا ہے مثلاً دیکھو ایزا کے مقابلے میں دُعا نہیں دیتا یا دُکھ پا کر سکھ پہنچانے کی کوشش نہیں کرتا بلکہ دُکھ کے مقابلے میں دُکھ پہنچاتا اور گالی کے مقابلے میں گالی دیتا ہے۔پس خدا کا بندہ جب اس قسم کے کام کرتا ہے تو یہ اس کی زیادتی متصور ہوتی ہے۔چنانچہ اس زیادتی سے بچنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے دُعا سکھائی اور فرمایا کہ تم ہمیشہ یہ دُعا کرتے رہو۔وَ اِسْرَافَنَا فِي أَمْرِنَا ہمیں اس جدو جہد میں ، اس مجاہدہ میں اور اس عظیم کوشش میں جو تیرے دین کے غلبہ کے لئے شروع کی گئی ہے۔اس میں ہمیں اس بات سے بچا کہ ہم اسراف کے گناہ میں ملوث ہو جائیں۔تیسر ا خطره استکانت یعنی دشمن کے سامنے تذلل اختیار کرنا اور اس کا اثر قبول کر کے اس کے پیچھے لگنے کا خطرہ ہے۔یہ کمزوری ایمان کی علامت ہے۔ایسے لوگوں کے متعلق قرآن کریم نے تفصیل سے بتایا ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ جی ہم نے انتظام کر لیا ہے ہم مسلمانوں کے ساتھ بھی ہیں اور منافقوں کے ساتھ بھی ہیں۔ہم نے کفار، منکرین اور دشمنان اسلام سے بھی ساز باز کی ہوئی ہے اور ہر ایک سے کہتے ہیں کہ اگر تم کامیاب ہو گئے تو ہم تمہارے پیچھے چل پڑیں گے۔میں اس کی تفصیل میں تو اس وقت نہیں جاسکتا۔اصولاً بتا رہا ہوں کہ اس گناہ اور کمزوری سے بچنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا تم یہ دعا کرتے رہا کرو و ثبت اقدامنا کہ اے خدا ہمارے قدموں کو مضبوطی عطا فرما۔فرمایا تمہیں اپنی کوششوں سے ثبات قدم حاصل نہیں ہو سکتا۔اللہ کے فضل سے حاصل ہو سکتا ہے اس لئے تم یہ دعا کرتے رہا کرو کہ ہمارے قدموں میں مضبوطی عطا ہو۔پس جب ان کمزوریوں کا خدشہ باقی نہ رہے اور ابتغاء القوم کی قوت ہو اُن سے، کانٹیکٹ کرنے اور جنگ کرنے کے لحاظ سے اور پھر زیادتی بھی نہ ہو بلکہ صبر سے کام لیتے ہوئے انسان گالی