انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 501 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 501

تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالثة ۵۰۱ سورة ال عمران دُعا سکھائی گئی ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا منکرین اور مخالفین کے منہ سے تمہارے خلاف جو بات نکلتی ہے اس کے مقابلہ میں تمہارے منہ سے یہ دُعا نکلنی چاہیے۔رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا۔یعنی انسان کمزور ہے دنیوی معیار کے لحاظ سے اور فاتح بھی ہے اللہ کے فضلوں کے نتیجہ میں وہ گھر بھی جاتا ہے۔ہر قسم کی مصیبتوں اور تکلیفوں میں، دشمن اُسے ذہنی، جسمانی اور مالی لحاظ سے نقصان پہنچاتا ہے لیکن وہ اس نقصان کو برداشت کر لیتا ہے اُس سہارے کی وجہ سے جو اسے حاصل ہے یہ سہارا کیا ہے ایک رسی ہے جو آسمان سے لٹکی ہوتی ہے۔یہ حبل اللہ ہے۔جسے وہ پکڑتا ہے اور دُعا کرتا ہے اس کے خلاف ہر قسم کے گندا چھالے جاتے ہیں مگر اس کے دل میں نہ کوئی شکوہ اور نہ کوئی شکایت پیدا ہوتی ہے نہ گھبراہٹ میں باتیں ہوتی ہیں اور نہ مشورے ہوتے ہیں کہ کیا ہوگا اور کیا نہیں ہوگا۔کیونکہ اس کو پتہ ہے کہ کیا ہونا ہے۔وہی ہوتا ہے جو خدا تعالیٰ چاہے گا۔اس کے منہ سے ان سارے دُکھ دہ حالات میں کچھ فرق نہیں نکلتا سوائے اس دُعا کے ربَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا اے ہمارے رب! ہماری کوتاہیوں کو معاف فرما۔ہمارے اندروھن پیدا نہ ہو کیونکہ وھن پیدا ہو جانے کا جو خطرہ ہے اس کا تعلق کوتاہیوں کے ساتھ ہے۔بشر کمزور ہے جو کچھ اسے کرنا چاہیے وہ نہیں کر سکتا کیونکہ بعض دفعہ شیطان اس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیتا ہے اور اس پردہ کو سوائے خدا تعالیٰ کی رحمت کے اور کوئی اُٹھا نہیں سکتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مغفرت کے حقیقی معنوں پر بڑے حسین پیرایہ میں روشنی ڈالی ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ وہ خطرات جو بشری کمزوریوں سے تعلق رکھتے ہیں ان کے متعلق یہ دُعا کرتے رہنا چاہیے کہ اے خدا! میں انسان ہوں، بہر حال کمزور ہوں، ایسا نہ ہو کہ میری بشری کمزوریاں میری روحانی رفعتوں کے حصول میں روک بن جائیں۔پس اے خدا! ایسا کر کہ مجھ سے کوتاہیاں سرزد نہ ہوں۔پس وھن کا تعلق چونکہ کوتاہیوں سے تھا۔اس لئے یہ دعا سکھائی گئی ہے کہ اگر تم وہن سے بچنا چاہتے ہو تو تمہیں اپنی کوشش اور سعی کے نتیجہ میں تکبر نہیں کرنا چاہیے۔اپنے ایثار اور اخلاص کی وجہ سے غرور نہیں کرنا چاہیے۔دھن سے بچنے کے لئے تمہیں اللہ تعالیٰ سے مدد حاصل کرنی پڑے گی اور اس مدد کے حصول کے لئے ہم تمہیں یہ دعا سکھا دیتے ہیں۔غرض اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم اپنے زور سے وھن سے نہیں بچ سکتے۔میری مدد سے بچ سکتے ہو اور میری مدد کے حصول کے لئے تمہیں یہ دعا کرتے رہنا چاہیے ربَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا کہ اے خدا! ہم