انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 500 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 500

سورة ال عمران تغییر حضرت خلیفة المسح الثالث بہادری کے ساتھ خدا تعالیٰ پر اسی توکل کے ساتھ اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو اسی طرح جذب کرتے ہوئے اگلے میدان میں چلے گئے۔پھر اگلے میدان میں چلے گئے اور پھر اس سے اگلے میدان میں چلے گئے۔پھر لِما أَصَابَهُمْ کی رُو سے دوسری کمزوری جس کا خطرہ پیدا ہوتا ہے وہ ضعف کا پیدا ہوتا ہے۔غصے کی زیادتی کے نتیجے میں بھی ضعف پیدا ہو جاتا ہے ضعف کا لفظ یہاں اسی معنی میں استعمال ہوا ہے۔اس کا میں نے اگلی آیت سے استدلال کیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہیں خدا کی راہ میں جو دکھ اور تکلیفیں پہنچتی ہیں اور تمہارے دل میں غصہ پیدا ہوتا ہے جس کی وجہ سے تمہارے اندر ایک قسم کا ضعف پیدا ہو جاتا ہے مگر اس کے باوجود تم نے کسی پر زیادتی نہیں کرنی اسی لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی فرمایا ہے گالیاں سُن کر دعا دو (در ثمین صفحه ۱۴۴) جو شخص گالیاں سن کر دعا دینے کی بجائے گالیاں دیتا ہے وہ اپنے مجاہدانہ عمل میں ضعف پیدا کرتا ہے کیونکہ اس کی توجہ دوسری طرف پھر جاتی ہے پھر آپ نے فرمایا :۔پا کے دکھ آرام دو (در ثمین صفحه ۱۴۴) جو شخص دُکھ پاتا لیکن دُکھ سہتا نہیں بلکہ جوابی کارروائی کرتا ہے اور کہتا ہے میں تیری خبر لیتا ہوں ، تم نے ایک چپیڑ لگائی ہے میں تجھے دو لگاؤں گا ، اس سے ضعف پیدا ہو گیا کیونکہ اس نے زیادتی کی ہے حالانکہ اس کا اصل مقصد صراط مستقیم کو اختیار کرنا ہے۔مگر ایک نے دائیں طرف توجہ پھیر لی اور دوسرے نے بائیں طرف پھیر لی اس لحاظ سے ضعف کا بڑا خطرہ ہے یعنی زیادتی ہو جانے کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے پاک اور محبوب بندے اس قسم کے ضعف میں مبتلا نہیں ہوتے وہ اپنا کام جاری رکھتے ہیں۔تیسرا خطرہ استکانت کا ہے کچھ کمزور لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کے متعلق یہ خطرہ ہوتا ہے کہ وہ کہیں تذلل نہ اختیار کر لیں اور دشمن کا اثر قبول کر کے اس کے پیچھے نہ لگ جائیں مگر وہ جماعت جسے خدا تعالیٰ نے دُنیا کا قائد بنایا ہوا سے نہ تو دشمن سے ڈرنا اور نہ اس کے پیچھے لگنا چاہیے۔غرض اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں یہ خطرے بتا کر ان کے علاج کی طرف بھی توجہ دلائی ہے۔چنانچہ قرآن کریم کی اس دوسری آیت میں جس کی میں نے تلاوت کی ہے ان خطروں سے بچنے کی