انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 499 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 499

تغییر حضرت خلیفة المسح الثالث ۴۹۹ سورة ال عمران کے جلال سے لرزاں و ترساں رہے گی۔وہ دُنیا کی ایذارسانی اور دُکھ دہی کی کوئی پرواہ نہیں کرے گی۔غرض اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جماعت الہیہ کو اس خطرہ سے ہمیشہ ہوشیار رہنا چاہیے اور ان کے اندر وھن نہیں پیدا ہونا چاہیے کیونکہ جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ وھن در اصل مومن کے جوش عمل اور جذبہ جہاد میں کمزوری کی علامت ہے الہی جماعتوں کے اندر تو یہ جوش پایا جاتا ہے کہ ان کے ذمہ دین کا جو۔اہم کام ہے اسے انہوں نے بہر حال پورا کرنا اور خدا کے فضل اور اس کی مہربانی سے اس میں کامیاب ہونا ہے۔اسی لئے مومنین کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ اس جوش اور جذبہ میں کسی وقت کمی نہ آئے اور اس میں ضعف پیدا نہ ہو۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ایک جگہ وھن کے معنے بڑے حسین پیرایہ میں بیان فرمائے ہیں۔الله تعالی فرماتا ہے وَلَا تَهنُوا فِي ابْتِغَاءِ الْقَوْمِ (النساء : ١٠٥) فرمایا تم دشمن قوم کی تلاش میں سستی نہ کرو۔اب دشمن کی تلاش میں سستی کرنا۔یہ ضعف فی العمل کی ایک شکل ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ تمہارے کام میں ضعف نہیں پیدا ہونا چاہیے ورنہ رابطہ قائم نہیں رہے گا۔فوج والوں نے ایک بڑا اچھا محاورہ ایجاد کیا ہے جب دشمن دو بدو لڑائی چھوڑ کر پیچھے ہٹ جاتا ہے تو وہ کہتے ہیں دشمن سے CONTACT ( کانٹیکٹ ) یعنی تعلق نہ رہا یعنی جب لڑائی ہو رہی ہوتی ہے تو گویا لڑتے وقت دونوں فوجوں کا آپس میں ایک تعلق قائم ہوتا ہے لیکن جب کوئی شخص عین میدانِ جنگ سے کھسک جاتا ہے تو ایسی صورت میں کہتے ہیں اس کا دشمن سے تعلق ( کانٹیکٹ ) نہیں رہا چنا نچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا دشمن اگر تمہیں نقصان پہنچا کر اتنا دور ہو جائے کہ تمہاری گرفت سے نکل جاۓ تو پھر ابتغاء القوم کے اس الہی ارشاد کی رُو سے اس کا پیچھا کرنا چاہیے ورنہ تمہاری یہ حالت دھن یعنی سستی کہلائے گی۔اس لئے تمہیں اپنے دشمن سے کانٹیکٹ قائم رکھنا چاہیے۔اس کی تلاش کرنی چاہیے۔جہاں بھی ہو اور جس محاذ پر وہ جائے وہاں تک اس کا پیچھا کرنا چاہیے۔۔۔۔۔پس لِمَا أَصَابَهُمُ في سَبِیلِ اللہ کی رو سے مسلمانوں کی فوج کو خدا کی راہ میں شہادت اور تھوڑے بہت زخموں کے نتیجہ میں جودُ کھ اور تکلیف پہنچی اور دنیا والوں کی نگاہ میں کمزوری پیدا ہوئی وہ خدا کے ان پاک اور محبوب بندوں کی نگاہ میں کمزوری نہیں ثابت ہوئی ان میں نہ وَهُنَّ فِي الْأَمْرِ کا کوئی شائبہ نظر آتا ہے اور نہ وَهُنَّ فِي الْعَمل کی کوئی مثال ملتی ہے۔وہ اسی جرات کے ساتھ اسی