انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 498 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 498

تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ۴۹۸ سورة ال عمران بلکہ ہمیں زندہ رکھنے اور ہمارے ذریعہ دوسروں کو زندہ کرنے کے لئے پیدا کیا ہے تاہم بشری کمزوریوں کی وجہ سے ایسے موقع پر تین قسم کے رد عمل ممکن ہیں جن سے بچنے کی ضرورت ہے۔پہلا وطن ہے یعنی مفوضہ فرائض میں ستی کا پیدا ہو جانا اللہ تعالیٰ انبیاء اور ان کی جماعتوں کے متعلق فرماتا ہے۔فَمَا وَهَنُوا لِمَا اَصَابَهُمْ فِي سَبِیلِ اللهِ یعنی وہ اس تکلیف کی وجہ سے جو انہیں اللہ کی راہ میں پہنچتی ہے۔سست نہیں ہوتے۔وھن کے معنے ضُعْفُ فِي الْأَمْرِ وَالْعَمْلِ (المنجد زير لفظ وَهَنَ ) کے بھی ہوتے ہیں۔ایک اجتماعی کوشش کے سلسلہ میں جو کام سپر د ہوا ہے اس میں کمزوری پیدا نہ ہو۔ضُعْفٌ فِي الْأَمر در اصل ضُعْفٌ فِي الْعَمل کی بنیاد ہے۔عمل میں جب قوت اور شدت پیدا ہوتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ امر میں قوت اور شدت موجود ہے یعنی اس میں ایک قسم کا جھکاؤ ، دلچپسی، بشاشت اور ایثار کا جذبہ پایا جاتا ہے جماعت احمد یہ اسی روحانی بشاشت، شوق عمل اور جذبہ ایثار کا ایک حقیقی نمونہ ہے۔خدا تعالیٰ نے اسے اس لئے قائم کیا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے اسلام کو ساری دُنیا میں غالب کرے۔پس یہ وہ عظیم مقصد ہے جس کے مطابق ہم عمل کریں گے اور انشاء اللہ اسلام کو ساری دُنیا پر غالب کر کے دم لیں گے۔غرض یہ جذبہ برقرار رہنا چاہیے یعنی دنیا خواہ ادھر سے ادھر ہو جائے یا ساری دنیا مل کر ہماری تباہی کے سامان پیدا کرنے کی کوشش کرے مگر ہم اس کی کوئی پرواہ نہیں کریں گے کیونکہ اس جذبہ میں جب کمزوری واقع ہو جائے اور اس کے نتیجہ میں انسان اپنے عمل میں ست پڑ جائے تو اس کو وھن کہتے ہیں یعنی مایوسی اور شبہ کے آثار پیدا ہو جائیں کہ پتہ نہیں اللہ تعالیٰ کے وعدے پورے بھی ہوں گے یا نہیں پتہ کیسے نہیں ! اگر وہ خدا تعالیٰ کے وعدے ہیں تو ضرور پورے ہوں گے۔پس یہ ایک خطرہ ہے جو لِمَا أَصَابَهُمْ فِي سَبِيلِ اللهِ کی رو سے پیدا ہو سکتا ہے تاہم یہ خطرہ پیدا نہیں ہوتا کہ خدا کی جماعت ہلاک ہو جائے گی۔ہلاکت تو در کنار اگر دھن ، ضعف اور استکانت کی وجہ سے جماعت کا ایک حصہ چھوڑ بھی دے تب بھی کوئی فرق نہیں پڑتا۔الہی مقصد و منشا بہر حال پورا ہو گا۔خدا تعالیٰ ایک نئی قوم لے آئے گا جو صحیح طور پر قربانیاں دینے والی ہوگی۔جسے اپنے مقصد سے پیار اور اس کی عظمت کا احساس ہوگا۔جو خدا تعالیٰ کی عظمت اور اس