انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 497 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 497

تفسیر حضرت خلیفہ المسیح الثالث ۴۹۷ سورة ال عمران وَهَنُوا لِمَا اَصَابَهُمْ فِي سَبِيلِ اللهِ وَمَا ضَعُفُوا وَ مَا اسْتَكَانُوا وَاللهُ يُحِبُّ الصُّبِرِينَ وَ مَا كَانَ قَوْلَهُمْ إِلَّا أَنْ قَالُوا رَبَّنَا اغْفِرُ لَنَا ذُنُوبَنَا وَاسْرَافَنَا فِي أَمْرِنَا وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وَ انْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَفِرِينَ ) ١٤٨ ان آیات میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہمیشہ سے ہی ایسا ہوتا چلا آیا ہے کہ جو لوگ انبیاء علیہم السلام کی جماعت میں شامل ہوتے ہیں۔منکرین اور مخالفین انہیں دُکھ دینے اور ایذا پہنچانے کی کوششیں کرتے رہتے ہیں۔قرآن کریم میں اس ایذا رسانی اور دُکھ دہی کے متعلق بڑی تفصیل اور وضاحت سے بیان ہوا ہے کہ جماعت مومنین کو زبان سے بھی دُکھ پہنچایا جائے گا اور ہاتھ سے بھی تکلیف دینے کی کوشش کی جائے گی۔چنانچہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں ایک جگہ مسلمانوں کو مخاطب کر کے فرماتا ہے:۔اِنْ تَثْقَفُوكُم يَكُونُوا لَكُمْ أَعْدَاءَ وَ يَبْسُطُوا إِلَيْكُمْ أَيْدِيَهُمْ وَالْسِنَتَهُمْ بِالسُّوءِ وَ وَدُّوا لَو تَكْفُرُونَ ( الممتحنة : ۳) یعنی اگر وہ تم پر کبھی قابو پالیں اور اُن کو موقع ملے تو وہ تمہاری تباہی کے لئے اپنے ہاتھ بھی استعمال کریں گے اور زبانیں بھی استعمال کریں گے۔پھر ایک دوسری جگہ فرما يا وَ لَتَسْمَعُنَ مِنَ الَّذِينَ أوتُوا الْكِتَبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَمِنَ الَّذِينَ اشْرَكُوا أَذًى كَثِيرًا (ال عمران : ۱۸۷) فرمایا تم اہل کتاب سے بھی اور مشرکوں سے بھی کثرت سے ایذا پہنچانے والی اور دُکھ دینے والی باتیں سنو گے۔جہاں تک زبان سے دُکھ پہنچانے کا تعلق ہے، یہ بنیادی طور پر دو قسم کا ہوتا ہے۔ایک یہ کہ گندہ دہنی سے کام لینا یعنی گالیاں دینا اور دوسرے یہ کہ افتراء کرتے ہوئے جھوٹے اتہام لگانا۔۔۔۔۔۔میں نے شروع میں جو دو آیات تلاوت کی ہیں ان میں سے پہلی آیت میں تین قسم کے خوف اور دوسری آیت میں ان کے علاج کی طرف توجہ دلائی گئی ہے فرمایا اللہ تعالیٰ کی راہ میں تمہیں دُکھ اور تکلیف پہنچے گی مگر تمہارا یہ کام ہے کہ تم اپنے اندر دھن، ضعف اور استکانت پیدا نہ ہونے دو۔میں سمجھتا ہوں یہ آیت ایک لحاظ سے ہمارے لئے خوشخبری کا باعث بھی ہے کہ ہمیں مالی نقصان بھی پہنچایا جائے گا، جذباتی اور روحانی نقصان بھی پہنچانے کی بھی کوشش کی جائے گی۔لیکن یہ نقصان ہمیں اس لئے نہیں پہنچایا جائے گا کہ ہم تباہ و برباد ہو جائیں کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس نے ہمیں مارنے کے لئے پیدا نہیں کیا