انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 496
تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ۴۹۶ سورة ال عمران انہوں نے۔ایک سو چالیس سے حملہ کروا دیا تین لاکھ کی فوج پر۔کوئی کہے گا پاگل پن تھا۔کوئی کہے گا خدا تعالیٰ کے پیار کا سمندر موجزن تھا۔انہوں نے بھی کوئی ہچکچاہٹ نہیں کی۔انہوں نے کہا ٹھیک ہے ایسے دھبے ہیں جو صرف ہمارا خون دھو سکتا ہے اور آج ہم دھوڈالیں گے۔ایک آدمی نہیں بچا ان میں سے۔بیچ ہی نہیں سکتا تھا۔۱۴۰ آدمی تین لاکھ پر حملہ آور ہو جائے۔بچنے کا سامان ہی نہیں۔کہتے ہیں ایک زخمی زندہ بعد میں ملا ان کو جو چند گھنٹے کے بعد وہ بھی فوت ہو گیا لیکن باقیوں کی تو لاشیں ہی وہاں سے اٹھائی انہوں نے۔ان میں عکرمہ بھی تھے۔یہ کس برتے پر لڑ رہے تھے؟ آنْتُمُ الْأَعْلَونَ کے۔حضرت خالد بن ولید نے ایک جگہ فوج کو جوش دلانے کے لئے انہوں نے کہا کہ فوجوں کی ہار اور جیت ان کی تعداد پر نہیں ہوا کرتی بلکہ خدا تعالیٰ کے اس فضل پہ ہوتی ہے جو انہیں حاصل ہوتا ہے۔اس واسطے تمہیں فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔بتا میں یہ رہا ہوں کہ اِن كُنْتُم مُّؤْمِنِین کے جب تقاضے پورے ہوں تو اس طرح بھی ہو جاتا ہے جیسا تاریخ نے ریکارڈ کیا اگر اِن کُنتُم مُؤْمِنین کے تقاضے پورے نہ ہوں تو پھر ایسا بھی ہمیں نظر آتا ہے مختلف ملکوں میں کہ اس ملک میں جو جوتی بھی سر پر مارنے کے لئے اٹھائی جاتی ہے وہ مسلمان کے سر پہ پڑتی ہے۔ایسے نظارے بھی تاریخ میں دیکھے۔ایک دفعہ ایک صحافی نے مجھ سے پوچھ لیا تھا کہ ہم سے کوئی وعدے بھی ہیں؟ ہمیں کوئی بشارتیں بھی دی گئی ہیں؟ میں نے کہا کیوں نہیں بشارت بڑی زبردست ہے۔میں بتارہا ہوں یہ اصولی بشارت ہے۔ہر شعبہ زندگی میں فوقیت تمہیں رہے گی حاصل اِنْ كُنْتُم مُّؤْمِنِينَ۔میں نے کہا اَنْتُم الأعلون کی بشارت ہے اور تمہیں کون سی بشارت چاہیے۔ہر شعبہ زندگی میں تمہاری فوقیت لیکن چھوٹی سی ایک شرط لگائی تھی ساتھ اِن كُنْتُم مُّؤْمِنِینَ۔یہ جو شرط لگانا ہے یہ انذار ہے۔اس سے اندار پتا لگتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دیکھو بشارت میں تمہیں بہت زبر دست دے رہا ہوں انتم الاعلون مگر ڈراتا بھی ہوں تمہیں۔اگر تم نے ایمان کے عملی تقاضوں کو پورا نہ کیا تو تمہارے حق میں یہ بشارت پوری نہیں ہوگی۔خطبات ناصر جلد ہشتم صفحه ۲۰۲ تا ۲۰۷) آیت ۱۴۸،۱۴۷ وَ كَأَيِّنْ مِنْ نَبِي قُتَلَ مَعَهُ رِبّيُّونَ كَثِيرٌ ۚ فَمَا