انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 44 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 44

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۴۴ سورة الفاتحة اور اس نے اس پاک وجود کو رحمتہ للعالمین بنا دیا۔آپ کا دل بنی نوع انسان کے لئے گداز ہوا۔آپ کا سارا ما حول عرب تھا لیکن آپ کا دل ہے کہ رحمتہ للعالمین کی موجوں سے لبریز تھا۔آپ نے جزیرہ نمائے عرب سے یہ اعلان کیا کہ کالے اور سفید میں کوئی فرق نہیں۔سرخ اور سفید میں کوئی فرق نہیں۔عرب اور عجم میں کوئی فرق نہیں ہے۔یہ جذبہ اور یہ انسانی قدر و منزلت رحمتہ للعالمین کا نتیجہ ہے۔یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت نوح علیہ السلام ( جو اپنی اپنی قوموں اور زمانوں کے لئے رحمت تھے ) ان کا نہ یہ جذبہ ہے اور نہ اُن کے بس کی یہ بات ہے۔پس خدا نے فرمایا۔میں رب العالمین ہوں اور خدا نے فرمایا کہ میرا محبوب محمد صلی اللہ علیہ وسلم رحمۃ للعالمین ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فیوض و برکات کو لیں تو وہ ساری دنیا پر محیط ہیں۔آپ کی ہدایت اور تبلیغ کو سامنے رکھیں تو وہ ساری دنیا پر مند ہیں۔گو یا اللہ تعالیٰ نے آپ کو قیامت تک کے لئے فیض رسانی کا ذریعہ بنادیا۔یہ چیز تھی جو آپ لائے۔آپ ساری دنیا کے لئے نبی اور آپ سارے زمانوں کے لئے ہیں۔نہ پہلے انبیاء کی مکانی وسعت ساری دنیا تھی اور زمانی وسعت قیامت تک کا زمانہ تھا۔رحمانیت کو لیں۔یعنی بغیر اجر دینے والا تو اس میں بھی آپ کی ذات اُسوہ کا رنگ رکھتی ہے۔رحمانیت کے جلوے مجاہدہ کے محتاج نہیں ہوتے۔اللہ تعالیٰ نے ہمارے فائدہ کے لئے سورج بنایا۔ہم نے کب سورج کی روشنی سے فائدہ اٹھانے کی خاطر کوئی مجاہدہ کیا تھا۔یا کوئی نمازیں پڑھی تھیں۔یا کوئی قربانیاں دیں تھیں۔یا کوئی خدمت خلق کی تھی۔ہماری پیدائش سے ہی نہیں بلکہ آدم کی پیدائش سے بھی پہلے اس کارخانہ عالم کی ہر چیز کو انسان کی خدمت پر لگا دیا۔اسی طرح بے شمار چیز میں صفت رحمانیت کی مظہر ہیں۔اس کے لئے انسان کو کچھ کرنا نہیں پڑتا۔اللہ تعالیٰ کی یہ صفت خود بخود جوش میں آتی ہے اور جانداروں کے لئے وہ کسی عمل کے بغیر نعماء اور فیوض کے چشمے جاری کر دیتا ہے۔پس خدا کی دوسری بنیادی صفت رحمانیت ہے۔یعنی بغیر کسی عمل کے فیض پہنچانا او نفع پہنچانا اور نعمتوں سے مالا مال کر دینا۔چونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صفات باری کے مظہر اتم ہیں اس لئے آپ نے اپنی صفت رحمتہ للعالمین کی رُو سے سب اقوام اور قیامت تک کی نسلوں سے کہا ما اسلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ (الفرقان: ۵۸) میں تمہارے پاس جو ہدایت لایا ہوں اس پر میں تم سے کسی اجر کا مطالبہ نہیں کرتا۔میں تمہارے کسی عمل کے نتیجہ میں تمہیں یہ کامل شریعت نہیں دینا چاہتا بلکہ اس خداداد محبت کے نتیجہ میں دینا چاہتا ہوں جو