انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 492 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 492

تغییر حضرت خلیفة المسیح الثالثة ۴۹۲ سورة ال عمران ہے اس کے علاوہ کوئی بغیر استحقاق کے دینے والا نہیں اور وہ رحیم ہے وہ رحیمیت کی صفت کے نتیجہ میں بدلے کا حق پیدا کر دیتا ہے دراصل رحیمیت حق دلواتی نہیں بلکہ حق پیدا کرتی ہے۔۔۔۔۔۔پس ایمان باللہ کا یہ مطلب نہیں ہے کہ کہہ دیا کہ ہم اللہ پر ایمان لاتے ہیں ایمان باللہ کے بعد تو دوسری کوئی چیز ہی نہیں رہتی۔ایمان باللہ کے بعد رشوت پر انحصار، ایمان باللہ کے بعد یہ نہین اور دوسری بدعنوانیوں کا سہارا لینا یہ باتیں ایمان کے ساتھ کیسے اکٹھی ہو سکتی ہیں۔ایمان باللہ کے ساتھ کوئی چیز نہیں رہتی صرف اللہ ہی اللہ رہتا ہے یا وہ شخص ہوتا ہے جس نے اللہ تعالیٰ سے فیض حاصل کرنا ہوتا ہے اور کچھ نہیں رہتا پس اس اللہ پر ایمان لانا ہے اور یہ بنیادی چیز ہے اس کی تفصیل بہت لمبی ہے۔دراصل اگر اس سارے کارخانہ پر تقریر کی جائے تو سارا اللہ ہی اللہ آجاتا ہے۔چند باتیں میں نے بیان کر دی ہیں اور اللہ پر اس رنگ میں ایمان لانے کے نتیجہ ہی میں پھر ایمان بالآخرة ، ایمان بالغیب اور ایمان بالرسل اور ایمان بالکتب وغیرہ جس کی قرآن کریم نے تفصیل بیان کی ہے جو دراصل ایمان کے مختلف شعبے اور شکلیں ہیں ان پر ایمان پختہ ہوتا ہے اس لئے اگر ایمان باللہ صحیح نہیں تو آگے کچھ نہیں۔خطبات ناصر جلد سوم صفحه ۲۶۲ تا ۲۷۷) تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جس طرح نذیر ہیں کافر کے لئے اس طرح بشیر بھی ہیں کافر کے لئے اور یہ خیال بھی غلط ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس شخص کے لئے محض بشیر ہیں جو اعلان کرتا ہے کہ میں آپ پر ایمان لایا اور آپ کے رب پر ایمان لایا۔آپ بشیر بھی ہیں اس کے لئے اور نذیر بھی ہیں اس کے لئے یعنی جس طرح کافر کے لئے نذیر اور بشیر ہیں اسی طرح مومن کے لئے بھی نذیر اور بشیر ہیں۔قرآن کریم بھرا پڑا ہے اس مضمون کے ساتھ اور ایک آیت میں نے اٹھائی ہے جس میں صاف ، بالکل وضاحت کے ساتھ یہ ہے کہ مومنوں کے لئے آپ نذیر بھی ہیں اور بشیر بھی ہیں۔قرآن کریم میں ہے۔إِنْ أَنَا إِلَّا نَذِيرٌ وَبَشِيرٌ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ (الاعراف: ۱۸۹) کہ میں صرف نذیر اور بشیر ہوں مومن قوم کے لئے۔تو یہ خیال کہ مومنوں کے لئے محض بشیر اور نذیر نہیں اور کافروں کے لئے محض نذیر اور بشیر نہیں یہ غلط ہے۔اگر ہم یہ سمجھ لیں کہ ایک دفعہ ایمان کا دعویٰ کر دیا پھر بشارتیں ہی بشارتیں ہیں، پھر خیر ہی خیر ہے، پھر خوشحالی ہی خوشحالی ہے، پھر اللہ تعالیٰ کی رضا ہی رضا ہے اور ہماری کوئی ذمہ داری