انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 491 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 491

تغییر حضرت خلیفة امسح الثالث ۴۹۱ سورة ال عمران ایمان لانے کے لئے ضروری ہے کہ ہمیں اس کی معرفت حاصل ہو اور جب پوری معرفت حاصل ہو جائے تو پھر سب کچھ حاصل ہو جاتا ہے۔معرفت کے بغیر وہ چیز ہمیں مل نہیں سکتی جو اسلام ہمیں دینا چاہتا ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کی رضا۔۔۔۔۔۔۔۔پس صرف زبان سے یہ کہہ دینا کہ ہم اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے خدا اور رسول کے نزدیک یہ کافی نہیں ہے اللہ تعالیٰ پر اس طرح ایمان لانا چاہیے جس طرح قرآن کریم کہتا ہے کہ ایمان لاؤ مثلاً اللہ تعالیٰ کو ہر حالت اور زندگی کے ہر موڑ پر قادر مطلق سمجھنا دنیا میں کسی قوم یا کسی انسان کی زندگی میں کوئی ایسا موقعہ نہیں آیا کہ جس وقت یہ کہا جائے کہ اب خدا بھی اس کی مدد نہیں کر سکتا۔پس اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کا یہ بھی ایک پہلو ہے۔۔اللہ تعالیٰ اس قسم کی قدرت رکھنے والا ہے۔اس سے مایوس نہیں ہونا چاہیے اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے لَا تَقْنَطُوا (الزمر : ۵۴) کیونکہ مایوسی شرک ہے۔اس سے اللہ تعالیٰ کے لئے ایک ضعف کا احتمال ہوتا ہے یہ ایمان باللہ نہیں ہے ہم اس قادر مطلق پر ایمان لاتے ہیں جو ایک ذرہ حقیر کے ذریعہ دنیا میں ایک عظیم انقلاب برپا کر دیتا ہے۔۔۔۔۔اللہ تعالیٰ پر رب ہونے کے لحاظ سے ایمان لاؤ کیونکہ ساری ربوبیت عالمین کا منبع اور سر چشمہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔آپ دنیا کے ماحول پر نگاہ ڈالیں تو پتہ لگتا ہے کہ سارا کارخانہ عالم اس کی اس صفت پر چل رہا ہے یعنی ایک تدریجی ارتقا ہے جور بوبیت کا تقاضا کرتا ہے۔۔۔۔۔۔دوسرے لوگ تو دعا پر کامل ایمان ہی نہیں رکھتے قرآن کریم ایک ایسے خدا کو ہمارے سامنے پیش کرتا ہے جس نے اپنی ایک صفت یہ بتائی ہے کہ وہ دعاؤں کو قبول کرتا ہے اور وہ تقدیر معلق کو بدل بھی دیتا ہے اور ایسی تقدیر جو مبرم سے ملتی جلتی ہو اور یہ ساری نسبتیں دراصل انسان کے فیصلہ پر منحصر ہیں اللہ تعالیٰ کے سامنے تو ہر چیز واضح ہے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔آمَنْ يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوءَ - ( العمل : ٦٣) یعنی اللہ تعالیٰ کی ایک صفت یہ ہے کہ جب انسان تضرع اور ابتہال کے ساتھ اس کے حضور جھکتا اور اپنے یا اپنوں کی تکلیفیں دور ہونے کے لئے دعائیں مانگتا ہے تو اللہ تعالیٰ ان کی تکلیف کو دور کر دیتا ہے۔۔۔۔۔پس ایمان باللہ محض یہ نہیں ہے جسے عام طور پر لوگ سمجھتے ہیں بلکہ اللہ پر وہ ایمان لانا چاہیے جس کا اسلام ہم سے تقاضا کرتا ہے مثلاً وہ رب العالمین ہے اس کے سوا کوئی رب نہیں ہے وہ رحمان