انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 484
تغییر حضرت خلیفة المسح الثالث مطابق وہ ادا کرنے والے ہیں۔۴۸۴ سورة ال عمران گیارھویں فرمایا کہ ہمیشہ فراخی اور خوشحالی کی حالت ہر انسان کے لئے تو نہیں رہتی تنگی بھی ہے تکلیفوں کا زمانہ بھی ہے ، قحط کے آثار بھی ظاہر ہو جاتے ہیں اور قحط کے آثار میں بھی ، طبقات طبقات میں فرق پڑ جاتا ہے، غریب کے لئے زیادہ مشکلیں پیدا ہو جاتی ہیں۔امیر کے لئے نسبتا کم مشکلیں ، تو فرمایا کہ وہ تکلیفوں اور تنگی کی حالت میں اور قحط کے دنوں میں سخاوت سے تنگ دل نہیں ہو جاتے وہ اپنے مقدور کے مطابق سخاوت کرتے چلے جاتے ہیں اور مخلوق خدا کی خدمت کے ذریعہ وہ اپنے پیدا کرنے والے رب کریم کے پیار کو حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور جس موعودہ جنت کا یہاں ذکر ہے اس کے حق دار بننے کے لئے وہ ایک جہاد کر رہے ہوتے ہیں۔بارھویں یہاں یہ بات بتائی کہ یہ متقی وہ ہیں جو غصہ پی جاتے ہیں۔غصہ ایک جذباتی کیفیت ہے، غصہ انسان کو پاگل کر دیتا ہے۔غصہ اور عقل سلیم ایک جا اکٹھے نہیں ہو سکتے ، غصہ کرنے والے ہمیشہ بے وقوفی کی باتیں کرتے اور احمقانہ اعمال بجالاتے ہیں۔خدا تعالیٰ نے فرمایا مومن غصہ نہیں کرتا۔متقی غصہ پی جاتا ہے اس کے سب کام خدا کی رضا اور اس کی مخلوق کی بہبود کے لئے ہوتے ہیں۔وہ غصے میں آکر لوگوں کے اوپر ظلم کے لئے تیار نہیں ہو جاتا۔پھر تیرھویں یہ بتایا کہ متقی وہ ہیں جو یاوہ گو اور ظالم طبع لوگوں کے حملہ کو معاف کر دیتے ہیں۔بیہودگی کا بیہودگی سے جواب نہیں دیتے۔بڑا وقار ہے متقی میں۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں یہ بات یا درکھو کہ قرآنی تعلیم یہ نہیں کہ خواہ نخواہ اور ہر جگہ شر کا مقابلہ نہ کیا جائے اور شریروں اور ظالموں کو سزا نہ دی جائے۔بلکہ یہ تعلیم ہے کہ دیکھنا چاہیے کہ وہ محل اور موقعہ گناہ بخشنے کا ہے یا سزا دینے کا۔پس مجرم کے حق اور نیز عامہ خلائق کے حق میں جو کچھ فی الواقع بہتر ہو وہی صورت اختیار کی جائے۔“ اسلامی اصول کی فلاسفی۔روحانی خزائن جلد نمبر ۱۰ صفحه ۳۵۱) چودھویں بات ان آیات میں ( اگلی آیت شروع ہوگئی ہے ) یہ بتائی کہ ان متقیوں کے لئے یہ جنتیں بنائی گئی ہیں کہ جب وہ کسی بشری کمزوری کے نتیجہ میں بے حیائی کا کام کر بیٹھیں یا اپنی جانوں پر ظلم کریں اور پھر اللہ تعالیٰ کو یاد کریں یعنی غلطی بشری کمزوری سے ہو ہی جاتی ہے لیکن اس کمزوری 66