انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 43 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 43

تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ۴۳ سورة الفاتحة w کامیابی کا استحقاق پیدا کرتی ہے۔جس طرح بی۔اے کا ایک نوجوان طالبعلم بڑی محنت کرتا ہے اور بڑے اچھے پرچے کرتا ہے۔نتیجتاً وہ فرسٹ ڈویژن میں کامیاب ہو جاتا ہے۔بظاہر وہ کامیاب تو ہو گیا لیکن اس معنی میں وہ کامیاب نہیں ہوا کہ اس کو نوکری بھی مل گئی۔اس کو یہ کہہ دیا گیا کہ تم اس قابل ہو گئے ہو کہ جہاں ایک اچھے گریجوایٹ کو لگایا جاتا ہے۔وہاں تمہیں بھی لگایا جا سکتا ہے اور بس لیکن دُنیا کی بادشاہتیں جس چیز کو نظر انداز کر دیتی ہیں ہمارا مالک خدا اپنی صفت مالکیت کے نتیجہ میں اس کا ثمرہ بھی عطا کرتا ہے۔ہمارارب انسان کو صرف یہی نہیں کہتا کہ اے میرے بندے تو میری رضا کی جنت کا مستحق ہو گیا۔بلکہ وہ یہ بھی کہتا ہے اُدْخُلِي جَنَّتِي ( الفجر : ۳۱) آ اور میری جنت میں داخل ہوجا کیونکہ میں مالک ہوں۔یہ اللہ تعالیٰ کی وہ چار بنیادی صفات ہیں جن کو اُتم الصفات اور اصل الاصول صفات کہا گیا ہے اور قرآن کریم کی سورۃ الحمد میں بیان ہوئی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ ان اصل الاصول چار صفات باری کی پہلی جلوہ گاہ انسان کامل کے دل کے سوا اور کوئی نہیں ہو سکی۔ان صفات کی پہلی جلوہ گاہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا دل ہے۔آپ کے دل پر ان صفات کا جلوہ نازل ہوا۔پس حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق قرآن کریم نے یہ اعلان کیا کہ آپ ان چار ام الصفات کے مظہر اتم ہیں۔مثلاً قرآن کریم نے کہا کہ اللہ تعالیٰ رب العالمین ہے۔قرآن کریم نے یہ بھی کہا کہ محبوب خدا حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رحمتہ للعالمین ہیں۔چنانچہ سورۃ انبیاء میں فرما یا مَا اَرْسَلْنَكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَلَمِينَ (الانبياء : ١٠٨) - گویا صفت ربوبیت کے مظہر اتم ہونے کا جلوہ رحمتہ للعالمین کی شکل میں ظاہر ہوا۔آپ سے پہلے جتنے انبیاء گذرے ہیں وہ رحمت تو تھے لیکن رحمتہ للعالمین نہیں تھے۔ربوبیت کے مظہر تو تھے لیکن ربوبیت کاملہ کے مظہر نہیں تھے۔حضرت موسیٰ آئے تو اُنہوں نے فرمایا کہ صرف بنی اسرائیل کی اصلاح اور ترقی میرے مد نظر ہے۔مجھے کسی اور قوم سے کیا غرض ؟ اس لئے حضرت موسیٰ علیہ السلام صرف بنی اسرائیل کے لئے رحمت تھے۔اس میں کوئی شک نہیں لیکن عالمین کے لئے رحمت نہیں تھے۔خدا تعالیٰ کی ربوبیت کے مظہر تو تھے لیکن رب العالمین کی صفت کے مظہر نہیں تھے۔رب العالمین کی ربوبیت کا ملہ کا کامل مظہر وہ دل تھا جس پر ربّ العالمین کا جلوہ نازل ہوا