انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 479
تغییر حضرت خلیفة لمسیح الثالثة ۴۷۹ سورة ال عمران قربانی کے جذبات رکھنے والا ہو۔یہ وعدہ دیا گیا ہے کہ تمہیں حسب استطاعت اجر ملے گا۔لیکن واقفین کے اس گروہ کے نتیجہ میں اُمت محمدیہ کا کوئی مقام متعین نہیں کیا گیا۔اس کے لئے اللہ تعالیٰ اسی سورۃ میں ایک دوسری جگہ یوں فرماتا ہے۔کنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ کہ تمہاری اُمت جو اُمت مسلمہ کہلاتی ہے۔تمام امتوں سے بہتر ہے۔اس لئے کہ تمہیں یہ سبق دیا گیا ہے اور تم اس سبق کو سمجھتے ہو اور جانتے ہو اور اس سبق کے مطابق اپنی زندگیوں کو گزارنے والے ہو تو تمہاری اُمت کو تمہارے فائدہ کے لئے نہیں بلکہ دنیا کے فائدہ کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔تو خَيْرَ أُمَّةٍ تم اس وجہ سے ہو کہ تم اپنے نفسوں کو بھلا دیتے ہو اور دنیا کی بھلائی کا خیال رکھتے ہو۔ان دو آیتوں پر جب ہم مجموعی نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں اُمت محمدیہ میں واضح طور پر دو جماعتیں نظر آتی ہیں۔ایک وہ جماعت جنہوں نے اپنی زندگی خدا کی راہ میں وقف کی اور اللہ تعالیٰ کی توفیق سے اس عہد کو نباہا یہ وہ گروہ ہے جو امت محمدیہ کو خیر کی طرف بلانے والا ہے۔يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ جو اُمت محمدیہ کی تربیت اس رنگ میں کرنے والا ہے کہ یہ اُمت بحیثیت اُمت دنیا کی بہترین امت بن جائے اور اس کے بدلے میں ان میں سے ہر ایک کے ساتھ اللہ تعالیٰ پیار کا سلوک کرے گا۔دوسری آیت میں یہ بتایا کہ خیر امت بننے کے لئے یہ ضروری ہے کہ اُمت کی اکثریت ہر نکتہ کو سمجھنے والی ہو کہ انہوں نے اپنے نفس کو قربان کرنا اور غیر کے نفس کو فائدہ پہنچانا ہے۔اپنے نفس کو تکلیف میں ڈالنا اور غیر کے نفس کو نار جہنم سے بچانے کی کوشش کرنا ہے۔اپنے نفس پر مجاہدات طاری کرنے ہیں، قربانی اور ایثار کی راہوں کو اختیار کرنا ہے اس لئے کہ قرب کی راہیں پالیں۔خطبات ناصر جلد دهم صفحه ۳۰۰،۲۹۹) آیت ۳۲ تا ۱۴۰ وَ اتَّقُوا النَّارَ الَّتِى أُعِدَّتْ لِلْكَفِرِينَ وَ أَطِيعُوا اللَّهَ ج وَالرَّسُولَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ وَسَارِعُوا إِلى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ (۱۳۳) لا عَرْضُهَا السَّمَوتُ وَالْأَرْضُ أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِينَ ) الَّذِينَ يُنْفِقُونَ فِي السَّرَّاءِ وَالصَّرَاءِ وَالْعَظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ وَاللهُ يُحِبُّ