انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 478
تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ۴۷۸ سورة ال عمران صفت سے متصف ہے۔جو غالب ہے اور کوئی اور ہستی اس پر غالب نہیں آ سکتی۔کیونکہ اس جیسا کوئی ہے ہی نہیں۔عزیز کے ایک معنی اس قسم کی عزت اور طاقت اور غلبہ رکھنے والی ہستی کے ہوتے ہیں کہ جس کے مقابلہ میں اس جیسی قوت اور طاقت اور غلبہ رکھنے والی کوئی اور ہستی نہ ہو۔اس لحاظ سے وہ بے مثل ہو۔تو اس ٹکڑے میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس طرف متوجہ کیا کہ اس عزیز خدا کی طرف سے جو کتاب نازل کی گئی اس کتاب میں بھی یہ خوبی ہے کہ وہ بے مثل ہے۔ایسی خوبیوں کی حامل ، رضا ء الہی کی اس قدر فراخ راہیں دکھانے والی ہے کہ دنیا میں جس قدر کتب سماوی گزری ہیں وہ اس کا مقابلہ نہیں کر سکتیں اور نہ کسی انسان کی طاقت میں یہ ہے کہ اس کا مثل معرض وجود میں لا سکے۔اس کتاب میں کامل حسن اور کامل تعلیم اور کامل ہدایت پائی جاتی ہے۔اس بے مثل اور یگانہ ذات کے پر تو نے اس کتاب کو بھی بے مثل کر دیا ہے۔اگر تم اس کتاب کی تعلیم پر عمل کرو گے تو تم بھی ایک واحد و یگانہ بے مثل قوم بن جاؤ گے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے دوسری جگہ فرمایا كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تم وہ اُمت ہو جس سے بہتر امت اس دنیا میں پیدا نہیں کی گئی تم وہ اُمت ہو جس سے زیادہ احسان، انسان پر کسی اُمت نے نہیں کیا۔پس پہلی خوبی اس کتاب کی اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ بتائی کہ اپنے کمال کے باعث یہ کتاب بے مثل ہے۔اور اپنی تعلیم کی وجہ سے یہ کتاب اُمت مسلمہ کو ایک بے مثل و بے مثال اُمت بنانے کی اہلیت رکھتی ہے۔خطبات ناصر جلد اول صفحه ۳۳۳) اے اُمت مسلمہ ! اے وہ لوگوں جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہوتے ہو۔چاہیے کہ تم میں سے ایک گروہ ہمیشہ ایسا رہے جنہوں نے اپنی زندگی خدا اور اس کے دین کے لئے وقف کی ہو اور وہ خیر کی طرف بلانے والے ہوں امر بالمعروف اور نھی عن المنکر کرنے والے ہوں اور اس گروہ سے ہمارا یہ وعدہ ہے کہ اگر وہ وقف کی روح کو سمجھیں گے اور اس روح کے مطابق اپنی زندگیوں کو گزاریں گے۔تو بہت بڑی کامیابی ان کے نصیب میں ہوگی۔أُولَيكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ ان کو فلاح ملے گی کہ اس سے بڑی کامیابی اور کوئی متصور نہیں ہو سکتی۔یہاں جس گروہ کا ذکر ہے۔اس کے نتیجہ میں انفرادی طور پر واقف کے لئے جو اپنے وقف میں اخلاص رکھنے والا اور خدا اور رسول کے لئے صدق وصفا ر کھنے والا ہو ثبات قدم رکھنے والا ہو۔ایثار اور