انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 42
تفسیر حضرت خلیفة امسح الثالث ۴۲ سورة الفاتحة انسان کی ذات میں ظاہر ہوئے۔صفت رحمانیت کے مظہر ہیں۔پھر ان حواس کے بقاء کے لئے انسان کو صورت اور سیرت بخشی۔وہ خود باقی نہیں رہ سکتا۔اس کو اس طرح نہیں بنایا کہ جس طرح ہم توپ کا گولہ پھینکتے ہیں اور وہ تباہی مچادیتا ہے اس میں بھی ایک جان ہوتی ہے۔اس میں بھی ایک حرکت پیدا ہوتی ہے۔وہ بھی زندگی کے مترادف ہے مگر توپ سے جو گولہ نکلا وہ جہاں گیا وہاں پھٹ گیا۔بس قصہ ختم ہوا لیکن انسان نے تو ایک معینہ مدت تک باقی رہنا تھا۔جب تک خدا تعالیٰ اسے زندہ رکھنا چاہے وہ زندہ رہتا ہے۔اس کی قوتوں کو اُٹھانے اور پیدا کرنے اور بڑھانے والے سامان پیدا ہونے چاہیے تھے۔چنانچہ خدا تعالیٰ نے اس کی بقاء کے لئے جن جن چیزوں کی اُسے ضرورت تھی وہ ان کے لئے مہیا فرما ئیں گویا یہ اس کا احسان ہے اور صفت رحمانیت کا مظہر ہے۔پس صفت رحمانیت اُم الصفات اور اصل الاصول میں دوسرے نمبر پر ہے اور اس سے سب سے زیادہ فائدہ انسان اُٹھاتا ہے کیونکہ جانوروں کو بھی انسان کی خاطر قربان کر دیا جاتا ہے۔احسان کی تیسری صفت رحیمیت بھی ہے۔اس کا بھی محض انسان سے تعلق ہے صفت رحیمیت کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ انسان کی دُعا اور اس کی تفریح اور اعمال صالحہ کو قبول فرماتا ہے یہ اس کی رحیمیت ہے۔اس طرح وہ انسان کو آفات اور بلاؤں سے بچاتا ہے اور اس کی کوشش میں جو خامی اور نقص اور کمزوری رہ جائے اس کو دُور کر دیتا ہے۔اس کی کوشش کو ضائع ہونے سے بچالیتا ہے۔سو ہمارا خدا بڑا رحیم خدا ہے۔آپ میں سے ہر ایک دوست سوچے۔بہت سے زمیندار دوست بیٹھے ہیں۔وہ سوچیں کہ انسان سے سُستی اور غفلتیں ہوجاتی ہیں۔کبھی نیند آ جاتی ہے اور اس عرصہ میں کھیتوں کا پانی ٹوٹ جاتا ہے۔یا نہر کے پانی کی باری ہوتی ہے آدمی اُٹھ نہیں سکتا اور نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ زمین کے کچھ حصہ کو سو کا آ جاتا ہے۔اسی طرح ہزاروں مواقع ایسے آتے ہیں جہاں انسان سے غفلتیں ہو جاتی ہیں۔تاہم ایک طرف انسان کی کوشش ہے۔دوسری طرف اس کی کمزوری ہے یہ دونوں ساتھ ساتھ بلکہ متوازی چل رہی ہوتی ہیں۔خدائے رحیم اپنی رحیمیت کی صفت کے ماتحت انسانی کوششوں میں کمزوریوں کو دُور کرتا ، انسان کی کوششوں کو ضائع ہونے سے بچاتا اور سچی کوشش اور محنت کا پھل دیتا ہے۔احسان کی چوتھی صفت صفت مالکیت یوم الدین ہے۔صفت رحیمیت دُعا اور عبادت کے ذریعہ