انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 465 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 465

تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث سورة ال عمران اپنے ایک نہایت کمزور بندے پر نگاہ ڈالتا اور اپنے لئے اسے چنتا ہے کیونکہ ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ خلیفہ اللہ تعالیٰ ہی بناتا ہے اگر بندوں پر اس کو چھوڑا جاتا تو جو بھی بندوں کی نگاہ میں افضل ہوتا اسے ہی وہ اپنا خلیفہ بنا لیتے لیکن خلیفہ خود اللہ تعالیٰ بناتا ہے اور اس کے انتخاب میں کوئی نقص نہیں۔وہ اپنے ایک کمزور بندے کو چتا ہے جس کے متعلق دنیا بجھتی ہے کہ اسے کوئی علم حاصل نہیں، کوئی روحانیت اور بزرگی اور طہارت اور تقویٰ حاصل نہیں۔اسے وہ بہت کمزور جانتے ہیں اور بہت حقیر سمجھتے ہیں۔پھر اللہ تعالیٰ اس کو چن کر اس پر اپنی عظمت اور جلال کا ایک جلوہ کرتا ہے۔اور جو کچھ وہ تھا اور جو کچھ اس کا تھا اس میں سے وہ کچھ بھی باقی نہیں رہنے دیتا اور خدا تعالیٰ کی عظمت اور جلال کے سامنے کلی طور پر فنا اور نیستی کا لبادہ وہ پہن لیتا ہے اور اس کا وجود دنیا سے غائب ہو جاتا ہے اور خدا کی قدرتوں میں وہ چھپ جاتا ہے تب اللہ تعالیٰ اسے اٹھا کر اپنی گود میں بٹھا لیتا ہے۔اور جو اس کے مخالف ہوتے ہیں انہیں کہتا ہے کہ مجھ سے لڑ واگر تمہیں لڑنے کی تاب ہے۔یہ بندہ بے شک نحیف ، کم علم، کمزور، کم طاقت اور تمہاری نگاہ میں طہارت اور تقویٰ سے عاری ہے لیکن اب یہ میری پناہ میں آگیا ہے اب تمہیں بہر حال اس کے سامنے جھکنا پڑے گا۔ایسا کیوں ہوتا ہے؟ اس لئے کہ خدا تعالیٰ یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ انتخاب خلافت کے وقت اسی کی منشا پوری ہوتی ہے اور بندوں کی عقلیں کوئی کام نہیں دیتیں۔اس آیت کا آیت استخلاف کے ساتھ بھی بڑا گہرا تعلق ہے۔وہاں بھی اللہ تعالیٰ نے ایک اور رنگ میں اسی قسم کا مضمون بیان کیا ہے اللہ تعالیٰ سورۃ النور آیت ۵۶ میں فرماتا ہے۔وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِى ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِم اَمَنًا يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا وَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذلِكَ فَأُولَيكَ هُمُ الْفَسِقُونَ (النور :۵۶) اس وقت یہاں میں ساری آیت کی تفسیر میں نہیں جاؤں گا۔البتہ یہ بیان کرنا چاہتا ہوں کہ ولیكنن لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِى ارْتَضَى لَهُمْ میں اِعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللهِ جَمِيعًا کا مفہوم پایا جاتا ہے کہ خلافت کے قائم ہونے پر اللہ تعالیٰ ایسے سامان پیدا کر دیتا ہے کہ وہ لوگ جنہوں نے اس کے رسول کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اِعْتِصَامُ بِحَبْلِ اللہ کیا تھا پھر اس کی آواز پراکٹھے ہو جاتے ہیں اور اپنے عہد کو سمجھنے لگتے ہیں اور یا د رکھتے ہیں اور اس کے مطابق خدا تعالیٰ کی تعلیم پر عمل کرنے والے بن