انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 445
۴۴۵ سورة ال عمران تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث مقدس بندے خدا تعالیٰ کے اسلام میں ایسے پیدا ہوئے جنہوں نے اسلام سے نور حاصل کر کے جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت سے روشنی حاصل کر کے، جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے عشق سے ایک چنگاری لے کر ایسا نور حاصل کیا کہ وہ اس دنیا میں غیر متناہی ترقیات کے حامل ہوئے اور جو انہیں اُخروی زندگی میں ملے گا جس کا وعدہ ان سے کیا گیا ہے اس کا تو ہم تصور بھی نہیں کر سکتے جیسا کہ احادیث میں بیان ہوا ہے کہ وہ ایسی عجیب نعمتیں ہیں کہ ان کا تصور بھی انسان یہاں نہیں کر سکتا۔ہدایت کے چوتھے معنی جیسا کہ میں نے بتایا تھا۔انجام بخیر ہونے کے ہیں یعنی جنت کے مل جانے کے اور مقصد حیات کے حصول کے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اولیكَ عَلَى هُدًى مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ أُولَبِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ (البقره:۶) کہ وہ لوگ جو قرآن کریم کی تعلیم پر عمل کرنے والے ہیں اس پر وہ مضبوطی سے قائم ہیں اور ان کے رب کی ربوبیت کاملہ نے جس کامل ہدایت کو نازل کیا وہ اس ہدایت کے اوپر قائم ہیں - و أوليكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔فلاح کا لفظ عربی زبان میں کامل کامیابی کو کہتے ہیں کہ جس کے مقابلہ میں کوئی کامیابی کا میابی نہیں رہتی جس میں کسی قسم کا کوئی نقص نہ ہو جس میں کسی قسم کی کوئی خامی نہ ہو جو بھر پور کامیابی ہو تو اللہ تعالیٰ نے یہاں یہ فرمایا کہ جو لوگ اپنے رب کی (جو انسان کی ربوبیت کرتا ہوا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں ایک خاص بلند مقام پر ان کو لے آیا اور کامل استعدادیں اور کامل صلاحیتیں ان کو عطا کیں ) ہدایت پر قائم ہیں۔وہ ایک حقیقی اور کامل فلاح اور کامیابی کو پاتے ہیں اور پہلی تمام امتوں سے آگے نکل جاتے ہیں۔تو اس وقت اس خطبہ میں میں نے تعمیر کعبہ سے تعلق رکھنے والے دو مقاصد کے متعلق کچھ بیان کیا ہے۔ایک یہ کہ (مُبَارَكًا) اللہ تعالیٰ چاہتا تھا کہ کعبہ کو مبارک بنائے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے ساتھ ہر دو معنی میں بیت اللہ مبارک بن گیا اور دوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ چاہتا تھا کہ یہاں ایک ایسی ہدایت بھیجے جو هُدى للعلمین ہو۔شریعت کے کمال کی وجہ سے بھی اور اپنے افاضہ کے لحاظ سے بھی اور یہ وعدہ بھی قرآن کریم کے ذریعہ پورا ہوا ہے۔ورنہ مکہ میں تو کوئی اور شریعت تھی ہی نہیں لیکن جو دوسری شریعتیں ہیں انہوں نے بھی نہ یہ دعوی کیا۔اور نہ وہ یہ دعوی کر سکتی تھیں قرآن کریم نے ہی یہ دعویٰ کیا ہے اور قرآن کریم نے اس دعوی کو عملی میدان میں ثابت بھی کیا ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے اسلام میں ہزاروں لاکھوں ایسے مقدس وجود پیدا ہوئے جن کی زندگیاں دلیل ہیں اس بات پر کہ