انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 444 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 444

تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ۴۴۴ سورة ال عمران ہے اسی طرح دوسری دنیا میں بھی یہ نور مومن سے جدا نہیں ہوگا اور یہ نہ سمجھ لینا کہ قرآن کریم کی کامل اتباع کے نتیجہ میں صرف اس دنیا میں غیر محدود رحمتوں کے دروازے کھلتے ہیں بلکہ مرنے کے بعد بھی ان رحمتوں پر کوئی حد بندی نہیں لگائی جاسکتی۔اس وقت بھی رحمتوں کے یہ دروازے کھلے رہیں گے کیونکہ دوسری جگہ فرمایا ہے کہ جو اس دنیا میں اندھا ہو گا وہ اس دنیا میں بھی بینائی کے بغیر ہو گا۔یہاں اس کے مقابل یہ مضمون بیان ہوا ہے کہ جو اس دنیا میں روشنی اور نور رکھتا ہوگا وہ نور اس دنیا میں بھی اس کے ساتھ جائے گا اور یہ نہیں کہ اس دنیا میں روحانی ترقی کے دروازے تو ایسے شخص پر کھلے رہیں گے اور وہاں جا کے صرف فصل کٹنے کے بعد جو اس کے پھلوں کے کھانے کا وقت ہوتا ہے۔صرف ویسا ہی وقت ہوگا پھر اور مزید ترقی اسے نہیں ملے گی۔جو پہلے اس نے حاصل کر لی ان نعمتوں سے صرف وہی حظ اور سرور حاصل کرتا رہے گا۔یہ بات نہیں بلکہ مرنے کے بعد بھی اللہ تعالیٰ نے انسانی روح کے لئے ایسے سامان پیدا کر دئے ہیں کہ جو نور وہ قرآن کریم کی متابعت اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل اس دنیا میں حاصل کرتا ہے۔وہ اس کے ساتھ جائے گا۔اور اللہ تعالیٰ وہاں بھی اس کی ترقیات کے دروازے کھولتا رہے گا اور اس کی راہوں کو روشن کرتا چلا جائے گا اور کہیں بھی اس راہ نے ختم نہیں ہونا۔کیونکہ بندے اور خدا کے درمیان جو فاصلے ہیں ان کی انتہا نہیں۔پس بندے اور خدا کے درمیان جو مقامات قرب ہیں ان کی حد بندی اور تعین کیسے کی جاسکتی ہے؟ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ اس آیت میں یہ جو فرمایا کہ وہ ہمیشہ یہی کہتے رہیں گے کہ ہمارے نور کو کمال تک پہنچا یہ ترقیات غیر متناہیہ کی طرف اشارہ ہے یعنی ایک کمال نورانیت کا انہیں حاصل ہو گا ، پھر دوسرا کمال نظر آئے گا اس کو دیکھ کر پہلے کمال کو ناقص پائیں گے پس کمال ثانی کے حصول کے لئے التجا کریں گے اور جب وہ حاصل ہوگا تو ایک تیسرا مرتبہ کمال کا ان پر ظاہر ہو گا پھر اس کو دیکھ کر پہلے کمالات کو بیچ سمجھیں گے اور اس کی خواہش کریں گے۔یہی ترقیات کی خواہش ہے جو آنیم کے لفظ سے سمجھی جاتی ہے۔غرض اسی طرح غیر متناہی سلسلہ ترقیات کا چلا جائے گا۔تنزل بھی نہیں ہوگا“۔(اسلامی اصول کی فلاسفی روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۴۱۲، ۴۱۳) تو قرآن کریم نے ایسا دعویٰ بھی کیا ، قرآن کریم نے ایسا کر کے بھی دکھایا یعنی ہزاروں لاکھوں