انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 39
تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث ۳۹ سورة الفاتحة زور زور سے تو نہیں ہنستے تھے البتہ ہر وقت مسکراتے رہتے تھے۔غرض اللہ تعالیٰ رب ہونے کے لحاظ سے تمام عالمین کی اور اس عالمین کے ہر فرد کی ربوبیت کر رہا ہے اور ہر ایک کو کمال مطلوب تک پہنچا رہا ہے۔اللہ تعالیٰ نے ایسے سامان کئے کہ مثلاً جو درخت اُگیں عام قانون کے مطابق جب اُن کی پرورش کی جائے اور وہ بڑے ہوں تو ثمر آور ہوں۔ہمارے اکثر زمیندار بھائی جو اس وقت میرے سامنے بیٹھے ہیں وہ آخر کس کے بھروسے پر گندم کا بیج زمین میں ڈال آئے ہیں۔اپنے اس رب کریم کے بھروسے پر جس نے قرآن کریم میں فرمایا ہے۔ءَ اَنْتُمْ تَزْرَعُونَةً أَمْ نَحْنُ الزُّرِعُونَ (الواقعة : ۶۵) کیا کھیتیاں تم اُگاتے ہو؟ نہیں! کھیتیوں کو تو میں اُگاتا ہوں اور یہی وہ حقیقت ہے جس کی بناء پر تم نے خدا پر بھروسہ کیا کیونکہ وہ ربّ ہے۔اب دیکھو گندم جس کو مالک نے زمین میں ڈال دیا اس کے متعلق ہمارے رب کریم نے کہا میں اس کی پرورش کر دوں گا اور ایک سے سات سو بنادوں گا اور یہ اس لئے کہ اس کی ربوبیت سارے عالمین میں کارفرما ہے۔سورج، چاند اور ستاروں کے علاوہ بعض ایسے ستارے بھی ہیں جن کی روشنی ابھی تک زمین پر نہیں پہنچی۔غرض یہ کائنات اور اس میں موجود کروڑوں کیڑے جو انسان کی خدمت میں لگے ہوئے ہیں اُن کو پیدا کیا اور ان کی ربوبیت کرتا چلا جا رہا ہے۔احسان کی دوسری خوبی اللہ تعالیٰ کی صفت رحمانیت میں مضمر ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر جاندار کو (صفت ربوبیت میں جاندار یا غیر جاندار کا سوال نہیں ہے ) درخت ہیں۔پتھر ہیں، کائنات کے یہ ایسے ذرے ہیں جن میں سے ایک کو اللہ تعالیٰ زمرد بنا دیتا ہے۔ایک کو حل بنادیتا ہے اور ایک کو سنگ مرمر بنا دیتا ہے اور کسی ذرے کو حکم دیتا ہے کہ تو مٹی کا ذرہ اسی طرح بنارہ لیکن تیری قیمت زیادہ ہے۔اب اگر ساری دنیا میں زمیندار کو آپ پوچھیں کہ اگر اللہ کہے کہ اس کے کھیت کے ذروں کو ہیرے اور جواہرات بنا دیتے ہیں تو وہ کہے گا کہ اے میرے رب میں کھاؤں گا کیا؟ پس مٹی کے جو ذرے، ہیرے اور جواہرات نہیں بنے اُن کی قیمت ہیرے اور جواہرات سے بھی زیادہ ہے۔کیونکہ انسان بحیثیت مجموعی اُن کو قربان کرنے کے لئے تیار ہو گیا۔پس ربوبیت کے جلوے ہر مخلوق دیکھتی ہے۔پتھر ہو یا مٹی یا درخت ہوں یا پانی ہو یا ہماری کھیتیاں ہوں، جانور ہوں، انسان ہو۔سب ربوبیت کے سائے تلے ہیں۔رحمانیت فرمانِ خداوندی