انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 443
تغییر حضرت خلیفة لمسیح الثالث ۴۴۳ سورة ال عمران ایک ناقابل تردید صداقت ہے جس کی وضاحت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الفاظ میں سنیئے۔حضور فر ماتے ہیں جس قدر معارف عالیہ دین اور اس کی پاک صداقتیں ہیں اور جس قدر نکات و لطائف علم الہی ہیں جن کی اس دنیا میں تحمیل نفس کے لئے ضرورت ہے۔ایسا ہی جس قدر نفس اتارہ کی بیماریاں اور اس کے جذبات اور اس کی دوری یا دائمی آفات ہیں یا جو کچھ ان کا علاج اور اصلاح کی تدبیریں ہیں اور جس قدر تزکیہ اور تصفیہ نفس کے طریق ہیں اور جس قدر اخلاق فاضلہ کے انتہائی ظہور کی علامات و خواص ولوازم ہیں یہ سب کچھ باستیفا ئے تام قرآن مجید میں بھرا ہوا ہے اور کوئی شخص ایسی صداقت یا ایسا نکتہ الہیہ یا ایسا طریق وصول الی اللہ یا کوئی ایسا نا در یا پاک طور مجاہدہ و پرستش الہی کا نکال نہیں سکتا جو اس پاک کلام میں درج نہ ہو“۔سرمه چشم آرید روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۷۴ حاشیہ )۔اس کی تفصیل آگے حضور نے بیان فرمائی ہے۔پس قرآن کریم کا ہی یہ دعوی ہے کہ انسانی نفس کو روحانی کمالات تک پہنچانے کے لئے جس جس ہدایت اور صداقت کی ضرورت تھی وہ سب میرے اندر پائی جاتی ہے، اگر تم میری اتباع کرو گے تو روحانی بیماریوں سے محفوظ ہو جاؤ گے اور روحانی ترقیات کے دروازے تم پر کھولے جائیں گے اور تم اپنے نفس کا کمال حاصل کر لو گے۔۔۔۔اور دوسرے قرآن کریم کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ فرمایا ہے کہ قرآن کریم کا بھی یہ دعوی ہے کہ میں غیر محدود انوار کے، میں غیر محدود برکات کے، میں غیر محدود مقامات قرب کے دروازے اپنے ماننے والوں اور قرآن کریم کی اتباع کرنے والوں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پیار کرنے والوں پر کھولتا ہوں چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَ الَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ نُورُهُمْ يَسْعَى بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَ بِأَيْمَانِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا آتِهِمْ لَنَا نُورَنَا وَاغْفِرْ لَنَا إِنَّكَ عَلى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (التحريم : ٩) اس آیت میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے فضل سے اسلام کی اتباع اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی متابعت کے نتیجہ میں اس دنیا میں نور عطا ہوتا ہے، وہ نور جس طرح اس دنیا میں ہمیشہ ان کے ساتھ رہتا ہے اور ان کی راہنمائی کرتا ہے اور روحانی راہوں کو ان پر روشن کرتا رہتا