انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 435 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 435

تفسیر حضرت خلیفہ امسح الثالث ۴۳۵ سورة ال عمران خوشنودی اور رضا ہوگی کہ اس قسم کی رضا پہلی قوموں نے حاصل نہیں کی ہوگی۔پس اللہ تعالیٰ یہاں فرماتا ہے کہ تیسویں غرض بیت اللہ کے قیام کی یہ ہے کہ ایک خیر الرسل صلی اللہ علیہ وسلم دنیا کی طرف مبعوث کیا جائے اور پھر انسان کو اس ارفع مقام پر لاکھڑا کیا جائے جس ارفع مقام پر کھڑا کرنے کے لئے ہم نے اسے پیدا کیا تھا۔(خطبات ناصر جلد اول صفحه ۷ ۶۳ تا ۴ ۶۴ ) بیت اللہ کے قیام کی پہلی غرض اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں جیسا کہ میں نے اپنے پہلے ایک خطبہ میں بیان کیا تھا یہ بتائی ہے کہ وضع للناس یہ اللہ کا گھر اس لئے از سر نو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ہاتھ سے تعمیر کروایا جارہا ہے کہ تمام اقوام عالم کے دینی اور دنیوی فوائد اس بیت اللہ سے وابستہ کر دیئے جائیں اور ظاہر ہے کہ یہ اڑھائی ہزار سالہ زمانہ جو حضرت ابراہیم علیہ السلام اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے درمیان گزرا اس زمانہ میں یہ نہیں کہا جا سکتا تھا کہ بیت اللہ سے تمام اقوام عالم دینی اور دنیوی فوائد حاصل کر رہی ہیں۔بہت سی قومیں اس وقت ایسی بھی تھیں جو بیت اللہ یا مکہ کے جغرافیہ سے بھی واقف نہیں تھیں۔اکثر اقوام عالم وہ تھیں کہ جن کے دلوں میں بیت اللہ کی کوئی محبت نہیں تھی۔وہ اس کی طرف کھنچے ہوئے نہیں آتے تھے۔ان کی نگاہ میں اس کی کوئی عزت اور احترام نہیں تھا اور انہیں یہ یقین نہیں تھا کہ بیت اللہ سے بعض ایسی برکات اور فیوض بھی وابستہ ہیں کہ اگر ہم ان کو جانیں اور پہچانیں تو ہم ان برکات اور فیوض سے حصہ لے سکتے ہیں لیکن جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ظہور ہوا تو یہی گھر جسے دنیا بھول چکی تھی دنیا نے اس کو پہچان لیا اور اس کی برکات کو جان لیا اور دنیا کے دل میں اکناف عالم میں بسنے والی اقوام کے سینہ میں اس کی محبت پیدا ہو گئی اور وہ تمام وعدے پورے ہونے لگے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے رب نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ربّ نے اور ہمارے رب نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے کئے تھے۔اب میں یہ بتاؤں گا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ یہ وعدہ ( وضع للناس کا ) کس طرح اور کس شکل میں پورا ہوا ظاہر ہے کہ چونکہ وعدہ تمام اقوام کے لئے تھا اور وعدہ یہ تھا کہ تمام بنی نوع انسان مکہ سے برکت حاصل کریں گے اور عقلاً یہ ممکن نہیں کہ شریعت کاملہ کے نزول کے بغیر ایسا ہو اس لئے قرآن کریم کی کامل شریعت کا نزول اس وعدہ کے پورا ہونے سے قبل ضروری تھا۔قرآن کریم نے دعویٰ کیا ہے کہ ذلِكَ الْكِتَبُ لَا رَيْبَ فِيهِ ( البقرة : ۳) یہ قرآن ایک کامل اور مکمل شریعت ہے۔۔۔۔