انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 434
تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالثة ۴۳۴ سورة ال عمران پیرو اس حقیقت کو پہچاننے والے ہوں گے کہ تو بہ اور مغفرت کے بغیر معرفت کا حصول ممکن نہیں ہے اس لئے وہ بار بار اس کی راہ میں قربانیاں بھی دینے والے ہوں گے اور بار بار اس کی طرف رجوع بھی کرنے والے ہوں گے اور کہیں گے کہ اے خدا! ہماری خطاؤں کو معاف کر دے۔وہ ایسی قوم ہوگی کہ جو نیکی کرنے کے بعد بھی اس بات سے ڈر رہی ہو گی کہ کہیں ہماری نیکی میں کوئی ایسا رخنہ نہ رہ گیا ہو جس سے ہمارا رب ناراض ہو جائے وہ ہر وقت استغفار اور تو بہ میں مشغول رہنے والی قوم ہوگی۔تیسواں مقصد اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولًا مِنْهُمْ کہ ہم محمد ( رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم ) کا مولد اسے بنانا چاہتے ہیں ہم اسے ایسا مقام بنانا چاہتے ہیں کہ جس کے ماحول میں تضرع اور ابتہال کے ساتھ ، عاجزی اور انکسار کے ساتھ ، عشق اور محبت کے ساتھ کی گئیں دعاؤں کے نتیجہ میں ہم اپنے ایک عبد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کو محمدیت کے مقام پر کھڑا کریں گے اور اس کے ذریعہ سے ایک ایسی شریعت کا قیام ہوگا اور ایک ایسی اُمت کو جنم دیا جائے گا کہ جو زندہ نشان اپنے ساتھ رکھتی ہوگی يَتْلُوا عَلَيْهِمُ التِك اور زندہ خدا کے ساتھ اور زندہ نبی کے ساتھ اور زندہ شریعت کے ساتھ ان کا تعلق ہوگا اور ان کو کامل شریعت کا سبق دیا جائے گا لیکن نا سمجھ بچوں کو جس طرح کہا جاتا ہے ان سے یہ نہیں کہا جائے گا کہ ہم کہتے ہیں اور تم مانو۔اللہ تعالیٰ ان کی عقل اور فراست کو تیز کرنے کے لئے اپنے احکام کی حکمت بھی ان کو بتائے گا اس نبی کے ذریعہ اور اس طرح وہ کچھ ایسے پاک کر دئے جائیں گے کہ اس قسم کی پاکیزگی کسی پہلی قوم کو حاصل نہ ہوئی ہوگی اور یہ ایک ایسی حقیقت ہے جسے ہماری عقل بھی تسلیم کرتی ہے کیونکہ اگر پہلی امتوں پر نسبتا ناقص شریعتوں کا نزول ہوا اور اس ناقص راہ نمائی کے نتیجہ میں ان کا تزکیہ ہو تو وہ تزکیہ کامل نہیں وہ ان کی فطرت کے مطابق ان کی استعداد کے مطابق ، ان کی قوت کے مطابق تو ہے لیکن وہ کامل تزکیہ نہیں ہے کیونکہ جو تعلیم انہیں دی گئی ہے وہ کامل نہیں کیونکہ ان کی استعدادا بھی کامل نہیں۔پھر جب وہ قوم پیدا ہو گئی جو کامل شریعت کی حامل ہونے کی استعدا در کھتی تھی تو ان میں سے جن لوگوں نے انتہائی قربانیاں دے کر اور خدا تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے اس کے تمام احکام پر عمل کر کے اور تمام نواہی سے بچتے ہوئے اس کے حضور گریہ وزاری میں اپنی زندگی گزاری ان کو جو تزکیہ نفس حاصل ہو گا ( محض خدا تعالیٰ کے فضل سے نہ کہ ان کے اعمال کے نتیجہ میں ) وہ ایک ایسا کامل تزکیہ ہو گا۔وہ ایک ایسی مکمل طہارت اور پاکیزگی ہو گی۔اللہ تعالیٰ کی ایسی