انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 433 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 433

۴۳۳ سورة ال عمران تغییر حضرت خلیفة امسح الثالث کے نتیجہ میں وہ اُمَّةً مسلمة بن بھی جائے گی اور اس کے یہ بھی معنی ہیں کہ وہ نبی جس کا وعدہ دیا گیا ہے کہ وہ مکہ میں پیدا ہو گا مگر تم دعا کرتے رہو کہ اے خدا! ہماری اور ہماری نسلوں کی کسی غفلت اور کوتاہی کے نتیجہ میں کہیں ایسا نہ ہو کہ تیرے نزدیک ہم اس قابل نہ رہیں کہ وہ وعدہ ہمارے ساتھ پورا ہو بلکہ کسی اور قوم میں وہ نبی مبعوث ہو جائے تو فرمایا میری اولاد کو ہی اُمت مسلمہ بنانا۔پہلے مخاطب وہی ہوں اور سب کے سب قبول کرنے والے بھی وہی ہوں۔پس یہاں یہ بتایا ہے کہ وہ اُمت جو حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل (علیہما السلام) کی ذریت سے پیدا ہونے والی ہے وہ اُمت مسلمہ بنے۔اس نبی کا انکار نہ کرے۔اس نبی پر ایمان لا کر جو ذمہ داریاں ان کے کندھوں پر پڑیں وہ ان کو نباہنے کی قوت اور استعداد ر کھنے والی ہو۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم ان کو ایسی ہی قوم بنانا چاہتے ہیں اور اسی غرض سے ہم نے خانہ کعبہ کی از سرنو تعمیر کروائی ہے۔اکیسواں مقصد یہاں یہ بیان فرمایا کہ آرنا مناسكنا اس میں اس طرف اشارہ فرمایا کہ مکہ معظمہ سے ایک ایسا رسول صلی اللہ علیہ وسلم پیدا ہو گا جو دنیا کی طرف اس وقت آئے گا جب وہ اپنی روحانی اور ذہنی نشوونما کے بعد ایسے مقام پر پہنچ چکی ہوگی کہ وہ کامل اور مکمل شریعت کی حامل بن سکے۔ایسی شریعت جس میں پہلی شریعتوں کے مقابلہ میں لچک ہے۔ایسی شریعت جس میں مناسب حال عمل کرنے کی تعلیم دی گئی ہو اور ایسی شریعت جو ہر قوم اور ہر زمانہ کی ضرورتوں کو پورا کرنے والی ہو۔آرنا منا سكنا ہمارے مناسب حال جو کام اور جو عبادتیں ہیں جو ذمہ داریاں ہیں وہ ہمیں دکھا اور سکھا۔یعنی قرآنی شریعت کو ہم پر نازل فرما۔پس آرنا مناسگنا میں یہ بتایا گیا ہے کہ جب وہ رسول آئے گا اس کا تعلق دنیا کی ساری اقوام سے ہوگا اور ہر زمانہ سے ہوگا۔پس دعا کرتے رہو کہ اے ہمارے رب قوم قوم کی ضرورتوں اور طبیعتوں میں فرق اور زمانہ زمانہ کے مسائل میں فرق کے پیش نظر شریعت ایسی کامل اور مکمل بھیجنا کہ جو ہر قوم کے فطرتی تقاضوں کو پورا کرنے والی ہو اور ہر زمانہ کے مسائل کو وہ سلجھانے والی ہو۔قیامت تک زندہ رہنے والی ہوتا جس غرض کے لئے اللہ تعالیٰ نے خانہ کعبہ کی بنیاد رکھی ہے وہ پوری ہو۔بائیسویں غرض اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمائی ہے کہ تب عَلَيْنَا۔اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ جو آخری شریعت یہاں نازل کی جائے گی اس کا بڑا گہرا تعلق رَبّ تواب سے ہوگا اور اس شریعت کے