انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 429 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 429

۴۲۹ سورة ال عمران تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث تھے جیسا کہ بہت سے قوی قرائن اس کے متعلق قرآن کریم سے ملتے ہیں ) غرض اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو یہ کہا کہ یہ خدا تعالیٰ کا ایک ایسا گھر ہے کہ تمام اقوام عالم پر جو مجھ پر ایمان لائیں گی اور میرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی ایمان لائیں گی اور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر میری اطاعت کا جو اپنی گردنوں پر رکھیں گی ان کے لئے حج بیت اللہ فرض قرار دیا جائے گا اور اس طرح اس جگہ کو مرجع خلائق اور مرجع عالم بنا دیا جائے گا۔آٹھویں غرض یا آٹھواں مقصد بیت اللہ کی تعمیر کا یہ بتایا کہ یہ مثابةً ہے۔اس لفظ میں یہ اشارہ پایا جاتا ہے کہ دنیا کی اقوام فرقہ فرقہ بن گئی ہیں اور جس وقت یہ فرقہ بندی اپنی انتہا کو پہنچ جائے گی اس وقت ایک ایسا رسول مبعوث کیا جائے گا جو بیت اللہ کی اس غرض کو پورا کرنے والا ہو گا اور ان متفرق اقوام کو ایک مرکز پر لا جمع کرے گا۔وہ سب کو علی دِینٍ وَاحِدٍ لے آئے گا۔پس یہاں بتایا کہ باوجود اس کے کہ تفرقہ ایک وقت پر اپنی انتہا کو پہنچ جائے گا اللہ تعالیٰ کا منشاء یہ ہے کہ اس وقت ایک ایسے رسول کو مبعوث فرمائے جو تمام اقوام کو اُمَّةً وَاحِدَةً بنادے۔نواں مقصد یہاں یہ بیان کیا کہ آمنا یعنی یہ گھر جو ہے یہ آمنا لِلنَّاسِ ہے۔یہاں اس کے یہ معنی ہیں کہ ہم نے اپنے اس گھر کو ایسا بنانا چاہا ہے کہ اس کے ذریعہ اور صرف اس کے ذریعہ دنیا کو امن نصیب ہوگا کیونکہ صرف یہ ایک گھر ہو گا جسے بیت اللہ کہا جاسکتا ہے اس کو چھوڑ کر اور ان تعلیموں کو نظر انداز کر کے جن کا تعلق اس گھر سے ہے دنیا کی کوئی تنظیم امن عالم کے لئے کوشش کر کے دیکھ لے وہ کبھی اس میں کامیاب نہیں ہو گی۔حقیقی امن دنیا کو صرف اس وقت اور صرف اسی تعلیم پر عمل کرنے کے نتیجہ میں مل سکتا ہے جو تعلیم وہ نبی دنیا کے سامنے پیش کرے گا جو خانہ کعبہ سے کھڑا کیا جائے گا۔امن کے ایک دوسرے معنی کے لحاظ سے آمنا لِلنَّاس کے معنی یہ بھی ہیں کہ دنیا روحانی طور پر اطمینان قلب صرف مکہ معظمہ اور صرف اس آخری شریعت کے ساتھ پختہ تعلق پیدا کرنے کے نتیجہ میں حاصل کر سکے گی جو آخری شریعت مکہ میں ظاہر ہوگی اور تمام اقوام عالم کو پکار رہی ہوگی اپنے رب کی طرف اور چونکہ اطمینان قلب ہر انسان کو اس وقت حاصل ہوتا ہے جب اس کے فطری تقاضوں کو وہ تعلیم پورا کرنے والی ہو اور اللہ تعالیٰ نے انسان کے اندر جتنی قوتیں اور استعدادیں پیدا کی ہیں ان سب کی راہ نمائی اور نشو نما کرنے کے قابل ہو پس یہاں یہ فرمایا کہ مکہ گھر ہو گا ایک ایسی تعلیم کا جو حقیقی و