انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 428
تغییر حضرت خلیفة المسح الثالث ۴۲۸ سورة ال عمران بنیاد از سرنو رکھی گئی تھی تو یہاں یہ فرمایا کہ ظاہری شکل حج کے ارکان کی ، اس عبادت کی خود ہی ایسی ہے جس کا تعلق محبت سے ہے۔مثلاً طواف کرنا ہے۔اب یہ تخیل قریباً ساری اقوام میں پایا جاتا ہے کہ جب کسی کے لئے جان کی قربانی دینا ہوتی ہے تو اس کے گرد گھومتے ہیں۔ہمارے بعض بادشاہوں کے متعلق بھی آتا ہے کہ ان میں سے کسی کا بچہ بیمار تھا۔اس نے اس کا طواف کیا اور دعا کی میری زندگی اس کو مل جائے۔پس جان قربان کرنے کا جو تخیل ہے وہ طواف کے ساتھ گہراتعلق رکھتا ہے۔غرض اللہ تعالیٰ یہاں فرماتا ہے کہ یہاں سے ایک ایسی قوم پیدا کی جائے گی جو ہر وقت اپنے محبوب کے گرد گھومتی رہے گی اور اس کے آستانہ کا بوسہ لیتی رہے گی۔ایک طرف وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یاد کو تازہ رکھنے والی ہو گی اور دوسری طرف وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسیہ کو نہایت شان کے ساتھ ظاہر کرنے والی ہوگی۔اللہ تعالیٰ نے اس قسم کی ایک قوم پیدا کر دی۔صرف پہلے زمانہ میں ہی نہیں صرف عرب میں بسنے والوں میں ہی نہیں بلکہ دنیا کے ہر خطہ میں اور قیامت تک ہر زمانہ میں جو ابراہیمی عشق اور جو ابراہیمی محبت اپنے رب کے لئے رکھیں گے وہ اس کی راہ میں ہر قسم کی قربانیاں دینے والے ہوں گے۔خطبات ناصر جلد اول صفحه ۶۲۶ تا ۶۳۴) چٹھی غرض اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَمَنْ دَخَلَهُ كَانَ آمِنًا بیت اللہ کی تعمیر کی چھٹی غرض یہ ہے کہ جو بھی اس کے اندر داخل ہو گا یعنی ہر وہ شخص جو ان عبادات کو بجالائے گا جن کا تعلق بیت اللہ سے ہے دنیا اور آخرت کے جہنم سے وہ خدا کی پناہ میں آ جائے گا اور اس کے تمام پچھلے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے۔پس چھٹی غرض بیت اللہ کی تعمیر کی یہ ہے کہ اللہ کا ایک ایسا گھر بنایا جائے کہ جس کے ساتھ بعض عبادات تعلق رکھتی ہوں اور جو شخص بھی خلوص نیت کے ساتھ اور کامل اور مکمل طور پر ان عبادات کو بجالائے گا اس کے متعلق اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے۔کہ اس کے تمام پچھلے گناہوں کو معاف کر دیا جائے گا اور نار جہنم سے وہ محفوظ ہو جائے گا۔ساتویں غرض بیت اللہ کی اللہ تعالیٰ نے یہاں یہ بتائی ہے کہ وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد یا اہل عرب پر ہی یہ فرض نہیں کہ وہ بیت اللہ کا حج کریں بلکہ بیت اللہ کی تعمیر کا اصل مقصد تو یہ ہے کہ اقوام عالم بیت اللہ کے حج کے لئے اس مقام پر جمع ہوں (میں سمجھتا ہوں کہ یہ تمام اغراض مقاصد حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بیت اللہ کی تعمیر کے وقت ہی بتا دیئے گئے