انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 37 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 37

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۳۷ سورة الفاتحة کا مالک ہے۔اُس میں کوئی عیب یا نقص، کوئی اندھیرا یا ظلمت نہیں پائی جاتی۔تمام جہانوں کا حقیقی نور وہی ہے۔اس حقیقت کو شاید بچوں کے لئے سمجھنا مشکل ہوگا اس لئے میں اسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الفاظ میں سمجھا دیتا ہوں۔آپ فرماتے ہیں: یہ سورج کی روشنی نہیں۔یہ خدا تعالیٰ کا نور ہے جو سورج کی چادر میں چُھپ کر یا لپٹ کر دنیا پر ظاہر ہو رہا ہے۔یہ چاند کا نور نہیں ہے جواندھیری راتوں کومنو رکرتا ہے۔یہ اللہ تعالیٰ ہی کا نور ہے۔جو چاند کی چادر میں اپنے کو لپیٹتا اور اس مادی اور ابتلاء اور امتحان کی دنیا کو جگمگا دیتا ہے۔یہ گلاب کی خوشبو نہیں ہے جو مشامِ جان کو معطر بنا دیتی ہے۔یہ خدا تعالیٰ کے لطف و کرم کا پر تو ہے جو انسان کو لذت اور سرور بخشتا ہے اور گلاب کے پر دے میں چھپ کر سامنے آتا ہے اور یہ بادل نہیں جو مینہ برساتے ہیں بلکہ خدا تعالیٰ کی رحمتیں ہیں جو بادل کی شکل اختیار کرتی ہیں اور مینہ برسانے لگ جاتی ہیں۔خیر یہ ایک بڑا گہرا مسئلہ ہے جو لوگ اس کو سمجھتے ہیں وہ اس سے حظ اٹھا سکتے ہیں۔“ بہر حال خدا تعالیٰ کے متعلق قرآن کریم نے یہ اعلان کیا کہ وہ نُورُ السَّمواتِ وَالْأَرْضِ ہے۔یہ گویا خدا کے حُسن کا اعلان ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ خدا تعالیٰ کے حسن کی خوبیاں جو کسی فرد یا گروہ کو عملاً فائدہ پہنچاتی ہیں۔یہ وہی نور اور وہی حسن کی صفات ہیں جو مختلف شکلوں میں انسان پر ظاہر ہوتی ہیں۔پس جیسا کہ میں بتا رہا ہوں چار اُم الصفات جو سورۃ فاتحہ میں بیان ہوئی ہیں ان میں سے پہلی صفت ربوبیت ہے، ربوبیت کا مطلب ہے پیدا کرنا اور کمال مطلوب تک پہنچانا۔یہاں تاریخ کا قانون رائج ہے۔بچہ پہلے ماں کے پیٹ میں پیدا ہوتا ہے۔جہاں نو ماہ تک اس کی پرورش کی جاتی ہے۔پھر وہ اس دنیا میں آتا ہے اور سانس لیتا ہے۔بعض دفعہ سانس نہیں لیتا۔بہر حال جب بچہ پیدا ہوتا ہے اس وقت اس کے اندر کوئی طاقت نہیں ہوتی۔اس کو دودھ کی ضرورت ہے جو خود بخود اس کی ماں کی چھاتیوں میں اُتر آتا ہے مگر دنیا کی کون سی عورت ہے جو خدا تعالیٰ کے منشاء اور حکم کے بغیر اپنی چھاتیوں میں اپنے یا کسی اور کے بچہ کے لئے دودھ پیدا کر دے۔اگر ماں اپنی مرضی سے اپنے بچے کے لئے دودھ پیدا کرنے پر قادر ہوتی تو وہ اپنی عزیز اور پیاری سہیلی کے بچہ کے لئے جسے دودھ نہیں