انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 36 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 36

تغییر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۳۶ سورة الفاتحة چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حسن و احسانِ باری میں یکتا اور انسانِ کامل ہیں اس لئے وہ منفرد ہیں۔ہمیں یہ کہا گیا ہے کہ اس بات میں ہم نے محمدصلی اللہ علیہ وسلم کو تمہارے لئے اسوہ حسنہ بنایا ہے۔تم حسن و احسان باری تعالیٰ کے مظہر اتم تو نہیں بن سکتے لیکن تم اپنی استعداد اور طاقت کے مطابق مظہر محسن اور احسان باری ضرور بن سکتے ہو۔اس لئے حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ کی پیروی کرتے ہوئے تمہیں بھی اپنے اندر اپنی زندگیوں میں اپنے معاملات میں اپنے تعلقات میں اپنے پیار میں اپنے غضب میں حسن و احسانِ باری کا اس رنگ میں مظہر بننے کی ضرورت ہے جس رنگ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں حسن و احسانِ باری کو ظاہر کیا۔چنانچہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق جب ہم یہ کہتے ہیں کہ آپؐ صفات باری کے مظہر اتم ہیں تو ہمیں کچھ مزید بھی بتانا پڑے گا۔ور نہ تو یہ ایک فلسفہ بن جاتا ہے اور ہر آدمی اس حقیقت کو سمجھ نہیں سکتا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس پر بڑے حسین رنگ میں روشنی ڈالی ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ سورہ حمد میں اللہ تعالیٰ کی جن بنیادی صفات کا ذکر ہوا ہے وہ چار ہیں۔ان کو اصل الاصول صفات باری یا اُم الصفات سمجھنا چاہیے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کی تمام صفات ان ہی چار صفات کے ساتھ کسی نہ کسی شکل میں تعلق رکھتی ہیں۔اگر ہم یہ ثابت کر دیں کہ یہ خدا تعالیٰ کی اُم الصفات ہیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ( میں قرآن کریم کی زبان میں بات کر رہا ہوں ) قرآن کریم کا یہ دعویٰ ہے کہ یہ صفات آپ کے اندر پائی جاتی تھیں۔تو پھر ہمیں تاریخ دیکھنی پڑے گی۔جس کو وقتی طور پر ہم ایک حد تک نظر انداز بھی کر سکتے ہیں اور کچھ مثالیں بھی دے سکتے ہیں۔قرآن کریم کہتا ہے کہ رب العالمین کی صفت کامل طور پر محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں پائی جاتی تھی اور رحمانیت کی کامل صفت آپ کے اندر پائی جاتی تھی اور اسی طرح رحیمیت کی اور مالکیت کی صفت بھی آپ کی ذات میں جلوہ گر تھی اور چونکہ یہ چاروں صفات اللہ تعالیٰ کی ساری صفات کی اصل یا اُتم الصفات ہیں اس لئے ماننا پڑے گا کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود تمام صفات باری تعالیٰ کا مظہر اتم ہے۔یہ چار صفات جو سورہ فاتحہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنی بیان کی ہیں اور جن کے متعلق ہمیں بتایا گیا ہے کہ وہ اصل الاصول اور اُم الصفات ہیں۔قرآن کریم نے یہ کہا ہے کہ اللهُ نُورُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ ( النور : ۳۶) اللہ تعالی جو تمام صفاتِ حسنہ