انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 399 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 399

تفسیر حضرت خلیفہ المسیح الثالث ۳۹۹ سورة ال عمران سیدھا راستہ ہے صراط مستقیم ہے۔صرف روحانی مقاصد کے حصول کے لئے نہیں بلکہ دنیا کی زندگی میں مقصد دنیوی ہو یا دینی اس زندگی سے تعلق رکھنے والا ہو یا اخروی زندگی سے تعلق رکھنے والا ایک راہ سیدھی ہے جو اس مقصد کے حصول کے لئے خدا تعالیٰ نے معین کی ہے اور اس راہ پر چلے بغیر انسان وہاں پہنچ نہیں سکتا، اپنے مقصد کو حاصل نہیں کر سکتا۔جو شخص مثلاً ربوہ سے سرگودھا جانا چاہے اگر وہ لائل پور کی ، فیصل آباد کی سڑک پر ادھر منہ کر کے فیصل آباد کی طرف، چلنا شروع کر دے تو وہ سرگودھا نہیں پہنچے گا۔خدا تعالیٰ نے ہر مقصد کے حصول کے لئے ایک معین راستہ مقرر کیا ہے اور وہ خدا تعالیٰ کے کلام کی اصطلاح میں صراط مستقیم ہے تو اللہ تعالیٰ یہاں یہ فرماتا ہے کہ تمہارا دعویٰ یہ ہے کہ تم خدا سے پیار کرتے ہواور خدا کا پیار لینا چاہتے ہو۔تمہیں سوچنا چاہیے کہ خدا کا پیار کن راہوں پر چل کر یا کس صراط مستقیم پر گامزن ہو کر تمہیں مل سکتا ہے۔یہ کامل اور مکمل کتاب انسان کی ہدایت اور راہنمائی کے لئے آتی اور اسے کہتی ہے۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے یہ اعلان کروایا کہ اگر تم خدا تعالیٰ کی محبت حاصل کرنا چاہتے ہو فَاتَّبِعُونِی۔۔فَاتَّبِعُونى میں دراصل تین باتیں بیان ہوئیں ہیں۔ایک تو اس میں یہ اعلان ہے کہ تمہارا بھی یہ دعوی ہے کہ تم خدا کا پیار حاصل کرنا چاہتے ہو اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی یہی دعوئی کہ مجھے خدا کا پیار چاہیے۔دوسری بات یہاں یہ بیان ہوئی ہے کہ خدا تعالیٰ کے پیار کے حصول کے لئے خود اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک سیدھی راہ بتائی جو اس کی رضا اور اس کے پیار تک پہنچاتی ہے اور تیسرے یہ کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس راہ پر گامزن ہو کر اپنے مقصد کو حاصل کرنے والے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے انتہائی پیار کو وصول کرنے والے ہیں یہ تین باتیں فَاتَّبِعُونی کے اندر بیان کی گئی ہیں۔تو بتا یا یہ گیا کہ دیکھو تمہارے دل میں بھی تڑپ ہے کہ خدا کا پیار حاصل کرو تمہاری اپنی استعداد کے مطابق وہ تڑپ اور وہ جذبہ تھا۔میرے دل میں بھی تڑپ تھی کہ میں خدا کے پیار کو اور اس کی محبت کو حاصل کروں۔میرا یہ جذبہ اور میری یہ خواہش میری اپنی استعداد اور طاقت کے مطابق تھی۔نزول قرآن سے پہلے ہی آپ خدا کے حضور جھکتے اور دعائیں کرنے والے تھے اور حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ پھر خدا نے میری اس تڑپ کو دیکھ کے مجھے ایک راستہ بتایا اور کہا کہ اس راستے