انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 397 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 397

تغییر حضرت خلیفة المسیح الثالثة ۳۹۷ سورة ال عمران کامل شریعت اس کے سامنے رکھی اور جو کہا جاتا ہے وہ کرو کی شکل بدل گئی لیکن مذہب کی جو روح تھی وہ وہی رہی کہ جو خدا کہتا ہے وہ کرو۔ایک لحاظ سے یہ چیز آسان بھی ہے اسی واسطے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے فارسی کلام میں ایک جگہ فرمایا ہے کہ خدا کو پالینا تو ایسا مشکل نہیں ہے وہ جان مانگتا ہے جان دے دو ( کامل اطاعت ) کامل اطاعت سے انسان اللہ تعالیٰ کے ان فضلوں کا وارث بن جاتا ہے جن کے متعلق خدا کی طرف سے یہ وعدہ ہے کہ اس اطاعت کے نتیجہ میں وہ اس پر نازل ہوں گے۔پہلوں پر وہ فضل نازل نہیں ہو سکتے تھے کیونکہ جو ان سے کہا گیا تھا جو ان سے مانگا گیا تھا۔جس کا ان سے مطالبہ کیا گیا تھا وہ اس سے بہت کم تھا جس کا مطالبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی اُمت یعنی نوع انسانی سے کیا ہے لیکن پہلوں سے جو کہا گیا تھا، جو ان سے مطالبہ کیا گیا تھا وہ لوگ مثلاً حضرت نوح علیہ السلام کے پیروکار یا حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شریعت کو ماننے والے اگر اُن مطالبات کو پورا کرتے جو اُن سے کئے گئے تھے تو وہ اُن فضلوں کے وارث بن جاتے جوان مطالبات کے پورا کرنے اور کامل فرمانبرداری کے نتیجہ میں ان کو ملنے تھے اور جن کی بشارت ان کو دی گئی تھی۔پھر ایک ایسی شریعت جس نے انسانی فطرت کا احاطہ کیا ہوا ہے اور فطرت کے عین مطابق ہے اور ایک کامل شکل میں انسان کے تمام قومی کو طاقت دینے کی اہلیت رکھنے والی ہے۔پوری کی پوری شریعت جو انسان کے لئے مقدر تھی وہ ایک کامل اور عظیم ہستی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے انسان کو ملی اور یہ مطالبہ کیا گیا کہ اسلام لا ؤ یعنی خدا میں فنا ہو کر اپنے سارے وجود کو اُس کے سپر د کر دو پھر تمہیں اتنے فضل ملیں گے کہ پہلوں کا تصور بھی وہاں تک نہیں پہنچ سکتا تھا۔قرآن کریم کی اس آیت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اللہ تعالی نے یہ کہا ہے کہ لوگوں کو کہہ دے کہ میں تو اپنے تمام وجود کو خدا کے حضور پیش کرنے والا ہوں اور جو میرے حقیقی متبع ہیں وہ بھی اللہ تعالیٰ کی کامل فرمانبرداری کرنے والے ہیں لیکن چونکہ انسان اپنے اندر بشری کمزوریاں بھی رکھتا ہے اس واسطے ذکر کا حکم ہے کہ قرآن کریم نے جو مطالبے کئے ہیں، چھوٹے چھوٹے بھی اور بڑے بڑے بھی ان کی یاد دہانی ہوتی رہے ورنہ انسان بھول جاتا ہے، اس کے ذہن سے محو ہو جاتا ہے۔شیطان وساوس پیدا کر دیتا ہے اور عملی کمزوریاں پیدا ہو جاتی