انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 396
تغییر حضرت خلیفة المسح الثالث ۳۹۶ سورة ال عمران وَإِن تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلغُ وَاللهُ بَصِيرٌ بِالْعِبَادِه سورۃ آل عمران کی اس آیت سے قبل جو آیت ہے اس کو اس طرح شروع کیا گیا ہے کہ ان الدِّينَ عِندَ اللهِ الْإِسْلَامُ (ال عمران : ۲۰) کہ خدا تعالیٰ کے نزدیک اصل دین اس کی کامل فرمانبرداری ہے اور آیت کا جو حصہ میں نے پڑھا ہے اس کے شروع میں کہا گیا ہے کہ اگر وہ دین کے معاملہ میں جھگڑا کریں تو انہیں اپنے عملی نمونہ سے بتاؤ کہ تمہارا دین کیا ہے أَسْلَمْتُ وَجْهِيَ لِلَّهِ تم اپنا سارا وجود خدا کے لئے سونپ دو اور اپنا سب کچھ اس کے حضور پیش کر دو اور جس طرح ہمارا اللہ ربّ العالمین ہے اسے اس کے ماننے والو! تم خادم العالمین بن جاؤ۔یہاں ایک بڑا لطیف نکتہ یہ بیان کیا گیا ہے کہ ایک تو علمی بخشیں ہوتی ہیں لیکن دین کے معاملہ میں علمی بحثوں کے علاوہ اور ان سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ انسان اپنے عملی نمونہ سے اپنے مقام پر قائم ہو۔اللہ تعالیٰ نے دین کی روح اور اس کی اصل اور اس کی بنیاد یہ بتائی ہے کہ انسان اللہ کے لئے اور اللہ میں فنا ہو کر اپنی زندگی کو گزارے۔کامل فرمانبرداری، ایک ایسی اطاعت جو اس کے معمولی سے معمولی حکم سے بھی باہر لے جانے والی نہ ہو، وہ اطاعت جو کامل ہو ، وہ اطاعت جو انسان کے وجود کا اس کے اعمال کا اس کے خیالات کا اس کی سوچ کا اور اس کی عادات کا احاطہ کئے ہوئے ہو، اللہ کی ایسی اطاعت کرنا یہ اصل چیز ہے جو خدا تعالیٰ کے حضور پیش کرنی چاہیے۔پہلے آنے والے مذاہب کا بھی یہی مطالبہ تھا کہ جو خدا کہتا ہے وہ مانو اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے جو کامل اور مکمل شریعت انسان کو دی گئی اس کا بھی یہی مطالبہ ہے کہ جو خدا کہتا ہے اس کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھالو۔فرق یہ ہے کہ پہلوں کے زمانہ میں خدا تعالیٰ نے ان کی استعدادوں اور طاقتوں کو دیکھتے ہوئے پورا بو جھ ان کے کندھوں بر نہیں ڈالا تھا کیونکہ وہ اس کے متحمل نہیں ہو سکتے تھے۔اُوتُوا نَصِيبًا مِنَ الْكِتَبِ (ال عمران : ۲۴) یعنی شریعت کا ملہ محمدیہ کا صرف ایک حصہ انہیں دیا گیا تھا لیکن جو بھی دیا گیا تھا اس کے متعلق ان سے مطالبہ یہ تھا کہ جو تم سے کہا جاتا ہے وہ تم کرو اور جو ان سے کہا جاتا تھا وہ ایسے احکام تھے جو کامل نہیں تھے کیونکہ اس وقت وہ کامل احکام کے بوجھ کو اُٹھانے کے قابل نہیں تھے ان میں اتنی استعداد نہیں تھی۔پھر جب انسان کامل شریعت کو اُٹھانے کے قابل ہو گیا تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک