انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 395 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 395

تغییر حضرت خلیفة لمسیح الثالثة ۳۹۵ سورة ال عمران اطلاع دی گئی تھی۔اسلام کے ایک لغوی معنی ہیں اور ایک اصطلاحی معنی ہیں۔ہر لفظ تو ہم نہیں کہہ سکتے لیکن ایک زبان کے بہت سے الفاظ لغوی معنے بھی رکھتے ہیں اور اصطلاحی معنے بھی رکھتے ہیں۔اصطلاحی معنی لغوی معنی کو محدود کرتا ہے۔اسلام کے لغوی معنے ہیں کسی چیز کا پہلے مول دے دینا، سودا کر لینا، قیمت دینا، وصول کرنا، دراصل تجارت دونوں طرف سے ہی ہے یا کسی کو اپنا آپ سونپ دینا یا صلح کرنا اور لڑائی جھگڑا دور کرنا ان معنوں میں عربی زبان اسلام کے لفظ کو استعمال کرتی ہے۔( خطبات ناصر جلد پنجم صفحه ۴۵) إنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللهِ الْإِسْلَامُ (ال عمران : ۲۰) بعثت نبوی کے بعد (صلی اللہ علیہ وسلم ) دین تو اب ایک ہی رہ گیا جسے اللہ تعالیٰ نے اسلام کہہ کر اس آیت میں پکارا ہے اور کوئی اس کے علاوہ دین نہیں، کوئی ایسی ہدایت جو قرآن کریم سے متضاد ہو یا اس سے مخالف ہو یا اس سے مختلف ہوا ایسی نہیں جو انسان کو ان راہوں کی طرف ہدایت دے سکے جو راہیں اللہ تعالی کی رضا کی طرف لے جانے والی ہیں۔اس اعتقاد پر ہم احمدی کھڑے کئے گئے ہیں اور اس اعتقاد پر ہم احمدی قائم ہیں کہ اِنَّ الذِينَ عِندَ اللهِ الْإِسْلَامُ۔۔۔۔۔۔اِنَّ الدِّينَ عِندَ اللهِ الْإِسْلام خدا تعالیٰ کے نزدیک اسلام ہی دین ہے۔اسلام کے علاوہ اور کوئی دین نہیں اور ہم احمدی اپنے دین پر قائم ہیں اور دنیا کی کوئی طاقت ہمیں اس راستہ سے ہٹا نہیں سکتی۔زبر دستی کر کے نمازیں نہیں چھڑوا سکتی۔ہم سے روزے نہیں چھڑوا سکتی نیز دیگر جو سات سو احکام ہیں انہیں نہیں چھڑوا سکتی اور وَمَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا (ال عمران :۸۶) جو شخص اسلام کے علاوہ کوئی اور دین پسند کرے گا وہ اپنے لئے یا کسی اور کے لئے فَلَن تُقْبَلَ مِنْهُ (ال عمران : ۸۲) دینِ اسلام کے سوا کوئی اور دین خدا تعالیٰ کو مقبول نہیں ہے، پسندیدہ نہیں ہے۔وَ هُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الخسِرِينَ (آل عمران : ۸۶) اور وہ قیامت کے دن گھاٹے میں پڑے گا۔(خطبات ناصر جلد نم صفحہ ۷۳ تا ۷۸ ) آیت ۲۱ فَإِنْ حَاجُوكَ فَقُلْ أَسْلَمْتُ وَجْهِيَ لِلَّهِ وَ مَنِ اتَّبَعَنِ ۖ وَقُلْ لِلَّذِينَ أوتُوا الْكِتَبَ وَالْأَمِينَ عَاَسْلَمْتُمْ فَإِنْ أَسْلَمُوا فَقَدِ اهْتَدَوا