انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 393
تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ۳۹۳ سورة ال عمران جائے اور میری طبیعت کے موافق ہو لے لیتا ہوں اور کھا لیتا ہوں ہمارا ایک بچہ ہے وہ گوشت بالکل نہیں کھاتا وہ دال لے لے گا یا دال کی بجائے آلو کا بھرتہ لے لے گا اور اسے کھائے گا بہر حال یہ بھی ایک مشقت ہے بظاہر یہ ایک معمولی چیز ہے لیکن انسان کا نفس اسے دھوکہ دیتا ہے اور اسے کہتا ہے تو یہ نہ کر تو تکلیف میں کیوں پڑتا ہے؟ بہر حال خدا کی راہ میں جو بھی مشقت تکلیف اور دکھ برداشت کرنا 99 پڑے خوشی اور بشاشت سے اسے برداشت کرے اور نہ نہ کرے بعض لوگ ” نہ کر کے ایک اور قسم کی مشقت اپنے اوپر ڈال لیتے ہیں۔بعض ایسے بھی ہیں جو احکام الہی کی بجا آوری اور نواہی سے بچنے کے لئے مشقت برداشت نہیں کرتے اور اپنے جذبات کو قربان نہیں کرتے اللہ تعالیٰ ان سے اور قسم کی قربانی لے لیتا ہے ایک شخص اپنے بچہ کی صحیح تربیت نہیں کرتا وہ غافل ہوتا ہے۔کہتا ہے ”وڈے ہو کے آپے عادت ہو جاوے گی ہن اس نوں صبح نماز دے واسطے کیوں جگاواں‘ یا دو پہر کی گرمی میں نماز دے واسطے مسجد وچ کیوں بھیجاں آپے جدوں سیانا ہو جاوے گا نماز پڑھ لیا کرے گا حالانکہ ماں کے لئے تو چالیس سال کا آدمی بھی بچہ ہوتا ہے بعض دفعہ اللہ تعالی کہتا ہے اچھا تم میرے لئے اس بچہ کو مشقت میں نہیں ڈالنا چاہتے اور یہ جذبات کی قربانی ہے ( ماں بھی جذبات کی ایک قربانی دے رہی ہوتی ہے ) جو تم میری خاطر نہیں کرنا چاہتے۔تمہارے لئے یہ بچہ ابتلا بن گیا ہے میں اس ابتلا کو تمہارے ساتھ کیوں رکھوں میں اسے اٹھا لیتا ہوں چنانچہ وہ اسے موت دے دیتا ہے پھر دھوپ کی گرمی اور صبح کی نیند کہاں جاتی ہے۔غرض جو لوگ خود کو خدا کے دین کی راہ میں آنے والی مشقتوں کے سامنے خوشی سے پیش کر دیتے ہیں اور دکھ اٹھا لیتے ہیں اللہ تعالیٰ ان دکھوں سے کہیں بڑے دکھوں سے انہیں محفوظ کر لیتا ہے اور جو ایسا نہیں کرتے ان کی اصلاح کے لئے دوسرے سامان پیدا کرتا ہے کیونکہ بغیر امتحان کے، بغیر ابتلاؤں کی برداشت، بغیر دکھوں کے اٹھانے کے کوئی شخص خدا تعالیٰ کی رضا کو حاصل نہیں کر سکتا۔اس کے ایمان کا امتحان لینا ضروری ہے۔١٢ اِنَّ الدِّينَ عِندَ اللهِ الْإِسْلَام کے بارھویں معنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ کئے ہیں کہ اسلام ایک موت ہے جب تک کوئی شخص نفسانی جذبات پر موت وارد کر کے نی زندگی نہیں پاتا اورخدا ہی کے ساتھ بولتا، چلتا، پھرتا ہسنتا، دیکھتا نہیں وہ مسلمان نہیں ہوتا“۔(الحکم ۷ ار جنوری ۱۹۰۷ صفحہ ۸)