انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 392
تغییر حضرت خلیفتہ امسح الثالث ۳۹۲ سورة ال عمران حاصل کرنے کے بعد اس کی سکھائی ہوئی ہدایت اور اس کے بتائے ہوئے علوم قرآنیہ کے نتیجہ میں اسلام کی شمع کو روشن رکھتے رہے ہیں کبھی تعداد کم تھی اور کبھی زیادہ لیکن کوئی زمانہ ایسا نہیں کہ جس کے متعلق تاریخ نے یہ شہادت نہ دی ہو کہ اس زمانہ میں خدا کے نیک بندے اسلام کے جھنڈے کو بلند کر رہے تھے کتنی عظیم عصمت ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا ہوئی کہ آپ نے کہا خدا کی راہ میں قربانی دینے سے میں ہچکچاتا نہیں اور اپنی حفاظت کرنے کی مجھے ضرورت نہیں کیونکہ آپ نے اپنے نفس پر شفقت نہیں کی اس لئے اللہ تعالیٰ نے آپ پر انتہائی شفقت کی اسی طرح جو لوگ احکام قرآنی کے بجالانے میں اپنے نفسوں پر شفقت نہیں کرتے مثلاً یہ نہیں کہتے کہ باہر ٹھنڈ ہے ہم گرم کمرہ میں بڑے آرام سے لیٹے ہوئے ہیں ہم لحاف سے باہر کیوں نکلیں وہ یہ نہیں کہتے کہ کمرہ میں ٹھنڈ ہے اور با ہر اتنی شدید گرمی ہے باہر نکلا تو بیمار ہو جاؤں گا اس لئے میں ظہر کی نماز کے لئے مسجد میں کیوں جاؤں وہ یہ نہیں کہتے کہ خدا نے رزق دیا ہے اس کو استعمال کرنا چاہیے ہم رمضان کے مہینہ میں بھی دوسرے مہینوں کی طرح خوب کھائیں گے اور شیطان یہ وسوسہ ڈالتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عطا ہے تمہیں اپنے آپ کو محروم نہیں کرنا چاہیے لیکن جو شخص اللہ تعالی کی عطا سے ایک خاص وقت کے اندر اپنے آپ کو محروم کرتا ہے وہ خدا کے حکم سے کرتا ہے کیونکہ اصل عطا جو خدا سے کسی کو حاصل ہوتی ہے وہ کامل اطاعت اور فرماں برداری کی عطا ہے وہ اس ذہنیت کی عطا ہے اور اس سے بڑھ کر کوئی عطا اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسان کو نہیں ملتی کہ وہ خوشی اور بشاشت کے ساتھ ہر قدم پر اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور فرماں برداری کرتا چلا جائے۔غرض احکام کی بجا آوری، نواہی سے پر ہیز حوادث زمانہ کی تکلیفوں اور مخالف طاقتوں سے جو دکھ پہنچتے ہیں ان کو خندہ پیشانی اور بشاشت سے قبول کرنا چاہیے خدا کی راہ میں جو پیش آئے اس سے انکار نہیں کرنا چاہیے کوئی یہ نہ کہے کہ مجھے نہیں منظور اور موسیٰ علیہ السلام کی امت کی طرح مثلاً یہ نہ کہے کہ ایک کھانے سے تو تسلی نہیں ہوتی بہت سے کھانوں کا انتظام کیا جائے ہمیں بھی تربیت کے لئے حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے ایک کھانے کی تلقین کی ہوئی ہے یہ صحیح ہے کہ بعض مجبوریوں کی وجہ سے بعض گھروں میں ایک سے زائد کھانے پک جاتے ہیں طبائع میں اتنا اختلاف ہے کہ ہمارے بعض بچے گوشت کھاتے نہیں اور ہمیں اس سے بعض دفعہ تکلیف بھی ہوتی ہے اور ان کے لئے دال بہر حال پکانا پڑتی ہے میں بھی گھر میں دو تین کھانے پکے ہوں تو ایک کھانا جو مجھے پسند آ