انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 391
تفسیر حضرت خلیفہ المسیح الثالث ۳۹۱ سورة ال عمران نظر آتا ہے کہ آپ نے خدا کی راہ میں اپنی جان کی کبھی پرواہ نہیں کی جنگ بدر میں جب کفار مکہ مسلمانوں پر حملہ آور ہوئے تھے تو آپ مدینہ میں نہیں بیٹھے رہے بلکہ جس طرح دوسرے مسلمان میدان میں گئے آپ بھی میدان میں گئے اور آپ ہی سب سے زیادہ دشمن کے حملہ کا نشانہ ہوتے تھے کیونکہ دشمن یہ جانتا تھا کہ اگر اس ایک شخص ( علیہ السلام ) کو (نعوذ باللہ) ہم نے قتل کر دیا تو پھر کسی اور کوشش کی ضرورت نہیں رہے گی اسلام ختم ہو جائے گا صحابہ نے اس بات کا اعتراف کیا ہے اور تاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ شدید تر حملہ دشمن کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر ہوتا تھا اور بہادر ترین صحابہ وہ سمجھے جاتے تھے جو آپ کے قرب میں رہتے تھے مثلاً حضرت ابوبکر" کے متعلق تاریخ گواہی دیتی ہے کہ مسلمان یہ سمجھتے تھے کہ یہ سب سے زیادہ بہادر شخص ہے اس کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قرب میں رہنا چاہیے لیکن آپ کوئی تدبیر اپنی حفاظت کی نہیں کرتے تھے آپ کے پاس دنیوی سامان ہی کیا تھا؟ تدبیر کیا کرنی تھی بہر حال آپ نے اپنی عصمت اور حفاظت کا کوئی سامان نہیں کیا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ چونکہ آپ اپنا سب کچھ خدا تعالیٰ کی راہ میں قربان کرنے کے لئے تیار ہو گئے اور اپنی زندگی اور اپنی موت اور اپنا ہر سانس اور عبادتیں وغیرہ سب کچھ خالص خدا تعالیٰ ہی کے لئے سمجھا اس یقین کے ساتھ کہ یہ اللہ کا حق ہے جو اسے دیتا ہوں میرا اپنا تو کچھ بھی نہیں جانتے ہو خدا تعالیٰ نے اس کے جواب میں کیا کیا ؟ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ اس کا نتیجہ یہ تھا کہ خدا نے کہا واللهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ ( المائدة : ۶۸) چونکہ آپ ہر وقت اپنی جان اپنے رب کے حضور پیش کر رہے تھے اس لئے خدا نے کہا میں تمہاری حفاظت کا ذمہ دار ہوں اور اللہ تعالیٰ نے اپنی کمال قدرت کے ساتھ اور نہایت ارفع شان کے ساتھ اس بات کو دنیا کے سامنے ظاہر کر دیا کہ خدا تعالیٰ ہی آپ کا محافظ اور معین اور آپ کو بچانے والا تھاد ثمن کا کوئی حربہ آپ کے خلاف کارگر نہیں ہوا اور آپ کے نفس کو، آپ کی ذات کو، آپ کے جسم کو خدا تعالیٰ نے بچایا اور محفوظ رکھا نیز آپ کی اُمت کو بھی اپنی حفاظت میں رکھا۔دنیا میں بڑے بڑے انقلاب بپا ہوئے بعض ملکوں سے اسلام مٹایا گیا یہ تو درست ہے لیکن یہ کہ اسلام دنیا سے مٹ جائے اس میں کبھی بھی شیطان کا میاب نہیں ہوا نہ ظاہری طور پر نہ روحانی طور پر کیونکہ اُمت مسلمہ میں ہر وقت اور ہر زمانہ میں ایسے لوگ موجود رہے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے قرب کو