انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 390 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 390

تفسیر حضرت خلیفہ المسیح الثالث ۳۹۰ سورة ال عمران دولہا مرجاتا ہے یا دلہن مرجاتی ہے یہ ساری حوادث زمانہ کی تکلیفیں ہیں ایک مومن بندہ اپنے رب پر اعتراض نہیں کرتا بلکہ جس وقت اس قسم کا حادثہ اسے پیش آئے وہ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِینَ پڑھ رہا ہوتا ہے وہ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا اِلَيْهِ رجِعُونَ پڑھ رہا ہوتا ہے۔اپنے خالق کے لحاظ سے وہ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ العلمین پڑھتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ حادثہ خواہ میرے لئے کتنا تکلیف دہ ہو مگر اس کے نتیجہ میں میرے رب کے اوپر کوئی حرف نہیں آتا اس کی حمد اور اس کی تعریف اسی طرح قائم ہے اس لئے وہ کہتا ہے اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ وہ کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میرے جسم کو، میرے دل کو، میرے دماغ کو، میری آنکھوں کو ایسا بنایا ہے کہ جوان بیٹا اگر مر جاتا ہے تو دل میں درد بھی اٹھتا ہے، آنکھوں میں آنسو بھی آتے ہیں دماغ میں پریشانی بھی پیدا ہوتی ہے مگر انا للہ ہم سب اللہ کے ہیں یہ بھی اللہ کا تھا اللہ نے اسے اپنے پاس بلا لیا میں بھی اللہ کا ہوں اور ایک دن میں بھی اس کے پاس چلا جاؤں گا خدا اگر اپنی رحمت کے سامان پیدا کرے تو میں اور میرا بیٹا اس کی جنتوں میں پھر ا کٹھے ہو جائیں گے چند دن چند سال یا کچھ عرصہ اس ملاپ کے لئے انتظار کرنا اور خدا کی خاطر اور اس کی رضا کے حصول کے لئے اور کرنا کوئی بڑی قربانی نہیں۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رجِعُونَ غرض ایک مشقت تکلیف اور دکھ انسان کو حوادث زمانہ کے نتیجہ میں برداشت کرنا پڑتا ہے اور ایک وہ دکھ ہے جو الہی سلسلوں کے مخالفین پہنچاتے ہیں ایک مسلمان کو اس ابتلا میں سے بھی گزرنا پڑتا ہے۔دیکھو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ تھوڑی تعداد میں تھے غریب تھے جنگ کی کوئی تربیت انہیں نہیں تھی ان کے پاس جنگ کا کوئی سامان نہ تھا اچھی تلواریں نہیں تھیں گھوڑے نہیں تھے کچھ بھی نہ تھا اور دشمن نے یہ سمجھا کہ ان نہتوں اور بے بسوں کو ہم اچھی تلواروں کے استعمال سے کاٹ کے رکھ دیں گے اور فنا اور نابود کر دیں گے تب اللہ تعالیٰ نے اپنے ان بندوں کو کہا کہ میری خاطر ان تکالیف کو برداشت کرنے کے لئے تیار ہو جاؤ اور میرا سے یہ وعدہ ہے کہ تم کمزور سہی تم غریب سہی تم نہتے سہی تم بے سر و سامان سہی لیکن میں تمہاری پیٹھ کے پیچھے کھڑا ہوں گا اس لئے تمہیں گھبرانے کی ضرورت نہیں آخر غلبہ تمہیں حاصل ہوگا۔غرض کئی قسم کے دکھ ابتلا اور مشقت انسان کو خدا کی راہ میں پیش آتی ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ جو کچھ خدا کی راہ میں پیش آئے اس سے انکار نہ کرے اور آپ نے یہ فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی پر آپ کے سوانح پر جب ہم نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں یہ