انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 381 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 381

تغییر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۳۸۱ سورة ال عمران زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوتِ اہوائے نفس خوبصورت کر کے دکھائے جاتے اور ان کا پیار شیطان انسان کے دل میں پیدا کرتا ہے۔هوى کا لفظ اس سے ملتے جلتے معنی کا ہے۔اہوائے نفس بھی ہم کہتے ہیں۔خواہشات نفس بھی ہم کہتے ہیں۔ھوی کے معنی ہیں مَيْلُ النَّفْسِ إِلَى الشَّهْوَة شہوت کی طرف، خواہشات کی طرف انسان کا میلان جو ہے عربی میں اسے القوی کہتے ہیں۔مفردات راغب میں آیا ہے وَقَدْ عَظم اللهُ دَمَّ اِتَّبَاعِ الْهَوَی کہ اللہ تعالیٰ نے اس بات کی بڑی اہمیت بیان کی اور اس پر بڑا زور دیا کہ اتباع الهوى - خواہشات نفسانی کی اتباع بڑی مذموم چیز ہے، بہت بری چیز ہے، بہت گندی چیز ہے۔بڑا زور دیا گیا ہے اس پر اور قرآن کریم کا دعویٰ تھا کہ میں ہر چیز کھول کھول کے بیان کرنے والا ہوں ، قرآن کریم نے بہت جگہ شہوات نفسانی جن کو ترک کرنے کا حکم ہے ہجرت میں۔اور یہ اہواء جو ہیں ان کے جو مضرات ہیں جس وجہ سے اس کی برائی کی گئی ہے اللہ تعالیٰ کے کلام میں، ان کے اوپر روشنی ڈالی گئی ہے۔میں نے اس خطبہ میں چند باتیں ان آیات قرآنی میں سے لی ہیں کہ شہوات نفسانی کی اتباع کرنے والے کس قسم کی محرومیوں میں خود کو ڈالنے والے اور اللہ تعالیٰ کے کن انعاموں سے وہ محروم ہو جاتے ہیں۔اس مضمون کے تعلق میں ( ہوائے نفس یا خواہشات نفس یا شہوات نفس ایک ہی چیز ہے) پہلی چیز یہ بتائی گئی ہے کہ روحانی رفعتوں کے حصول سے شہوت نفس یا اہوائے نفس محرومی کا باعث بن جاتی ہیں۔خدا تعالیٰ نے سورۃ الاعراف کی آیت ۱۷۷ میں بیان کیا ہے۔و کوشتنا اگر ہم چاہتے تو اسے رفعتیں اور بلندیاں عطا کرتے۔اس کے یہ معنی بھی ہیں ( تلاوت کرتے ہوئے میرے ذہن میں آیا کہ بالکل یہ معنی ہیں ) و کوشتنا اگر ہماری مرضی پر وہ چلتا ( ہم چاہتے تبھی ہوتا نا جب ہماری مرضی پر چلتا ) لرفعتهُ اُسے روحانی رفعتیں حاصل ہو جاتیں لیکن وہ ہماری مرضی پر نہیں چلا بلکہ ہوائے نفس کی اس نے اتباع کی وَلكِنَّةُ اخْلَدَ إِلَى الْأَرْضِ وہ زمین پر گر پڑا رفعتیں حاصل کرنے کی بجائے۔وَاتَّبَعَ حومه یہ قرآن کریم کا ہے اَخْلَدَ إِلَى الْأَرْضِ وَاتَّبَعَ هَوايه رفعتوں سے محرومی اسے ملی اور زمین یہ اسی طرح، زمین کا کیڑا جس طرح زمین پہ چل رہا ہوتا ہے وہ اس کی حالت بن گئی۔انسان زمینی گراوٹ کے لیے نہیں پیدا کیا گیا۔انسان کو مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا