انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 380 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 380

تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالثة ۳۸۰ سورة ال عمران بعض ایسے بھی ہیں کہ اول ان میں دل سوزی اور اخلاص بھی تھا مگر اب ان پر سخت قبض وارد ہے اور اخلاص کی سرگرمی اور مریدانہ محبت کی نورانیت باقی نہیں رہی بلکہ صرف بَلْعَمُ کی طرح مکاریاں باقی رہ گئی ہیں اور بوسیدہ دانت کی طرح اب بجز اس کے کسی کام کے نہیں کہ منہ سے اکھاڑ کر پیروں کے نیچے ڈال دیئے جائیں۔وہ تھک گئے اور درماندہ ہو گئے اور نابکار دنیا نے اپنے دام تزویر کے نیچے انہیں دبا لیا۔سو میں سچ سچ کہتا ہوں کہ وہ عنقریب مجھ سے کاٹ دیئے جائیں گے۔بجز اس شخص کے کہ خدا تعالیٰ کا فضل نئے سرے اس کا ہاتھ پکڑ لیوے۔ایسے بھی بہت ہیں جن کو خدا تعالیٰ نے ہمیشہ کیلئے مجھے دیا ہے اور وہ میرے درخت وجود کی سرسبز شاخیں ہیں“۔فتح اسلام۔روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۴۰) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان الفاظ میں اسی حقیقت کا اظہار کیا ہے کہ ہدایت پا لینے کے بعد اس وہم میں مبتلا ہو جانا کہ اب ہمارے لئے ابتلاء آ ہی نہیں سکتا اور شیطان کا ہم پر کامیاب وار ممکن ہی نہیں یہ غلط ہے۔متقی بن جانے کے بعد بھی انسان کو ہدایت کی ضرورت رہتی ہے اور جب اللہ تعالیٰ نے یہ دعا سکھائی کہ ربنا لا تزغ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا اس میں اس طرف بھی اشارہ کیا کہ کبھی سے بچنے اور ہدایت پر قائم رہنے کیلئے جن ہدایتوں کی ، جن تعلیمات کی ضرورت ہے وہ قرآن کریم میں پائی جاتی ہیں۔پس ایسے مواقع کے لئے جو دعائیں قرآن کریم نے سکھائی ہیں جوطریق اس نے بتائے ہیں جو تعلیمیں اس نے دی ہیں ان سے فائدہ اُٹھاؤ اور دعاؤں کے ذریعہ اور تدبیر کے ذریعہ یہ کوشش کرو کہ ہدایت پانے کے بعد پھر پاؤں نہ پچھلے اللہ تعالیٰ کی رضا کی جنت میں داخل ہونے کے بعد کہیں ایسا نہ ہو کہ رضا کی ان جنتوں سے نکال دئے جاؤ۔تعد (خطبات ناصر جلد دوم صفحه ۳۱،۳۰) آیت ۱۵ زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوتِ مِنَ النِّسَاءِ وَالْبَنِينَ وَالْقَنَاطِيرِ الْمُقَنْطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَ الْفِضَّةِ وَالْخَيْلِ الْمُسَوَّمَةِ وَالْأَنْعَامِ وَالْحَرْثِ ذَلِكَ مَتَاعُ الْحَيَوةِ الدُّنْيَا ۚ وَاللَّهُ عِنْدَهُ حُسْنُ الْمَابِ۔خواہشات نفسانی کا ذکر بہت سی جگہ قرآن کریم میں آیا اور یہ بتایا گیا ہے کہ جو شیطانی اثر ہیں