انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 370 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 370

٣٧٠ سورة البقرة تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث دیتے اور بقیہ کے متعلق بخل کرنے لگتے ہیں۔لا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا میں جو بات بتائی گئی تھی وہ یہاں کھول کر بتا دی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ تھوڑا دینے پر راضی نہیں بلکہ وہ طاقت کے مطابق پورا دینے پر راضی اور خوش ہوتا اور اس کی جزا دیتا ہے۔باقی اس کی رحمت وسیع ہے وہ اپنے بندوں سے بعد میں 66 جزا سزا کے وقت جو چاہے سلوک کرے ( بعد میں سے یہ مراد ہے کہ اس زندگی کے بعد اُخروی جزا کا وقت یا اسی زندگی میں جزا کا وقت یعنی ایک محدود کوشش کا نتیجہ نکلنے کا وقت ) وہ مالک ہے جو مرضی ہو کرے اسکے متعلق ہم بات نہیں کیا کرتے لیکن جو خدا نے ہمیں کہا اور تعلیم دی ہے، ہم سے جو چاہتا اور خواہش رکھتا ہے اور جس بات پر وہ کہتا ہے کہ میں راضی ہوتا ہوں۔وہ یہ ہے کہ جتنا دے سکتے ہواُتنا دے دو تو میں راضی ہوں گا ورنہ نہیں۔اللہ تعالیٰ نے یہ بوجھ ڈالا ہے اور اس کو پسند نہیں کرتا کہ انسان اپنی قوت اور طاقت کے مطابق کام نہ کرے بلکہ اس سے کم کرے۔لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا کی لغوی بحث میں امام راغب نے بھی اس طرف اشارہ کیا ہے کہ انسان کی طاقت سے جو زائد ہے، وہ اس کا مکلف نہیں لیکن اس دائرے کے اندر مکلف ہے۔سورہ نجم میں یہی چیز کھول کر بیان کر دی گئی ہے کہ تھوڑا دینا اور بقیہ کے متعلق بخل کرنا۔اگر تمہاری قوتِ استعدا دسوا کائی ہو اور تم خدا کی راہ میں خدا کے بتائے ہوئے طریق اور اسکی تعلیم کے مطابق اور اس کی شریعت کے اصول کے لحاظ سے ننانوے اکائیاں دے دو اور ایک کے متعلق روگردانی اور بغاوت کا طریق اختیار کرو تو تم باغی ہو۔اگر بھول جاؤ تو تم خدا تعالیٰ کے بعض فضلوں کو کھونے والے ہو سوائے اس کے کہ پھر ایک اور کوشش کر و یعنی استغفار اور دعاؤں اور خدا کے سامنے عاجزانہ تڑپنے کی۔یہ ایک اور کوشش ہے جو اس کمی کو پورا کرتی ہے پس کوشش بہر حال کرنی پڑے گی۔۔۔۔اللہ تعالیٰ سورہ نجم کی ان دو آیات کے بعد ان لوگوں سے مخاطب ہوکر فرماتا ہے جو کچھ دیتے اور بقیہ کے متعلق بخل کرتے ہیں کہ کیا ان کو علم نہیں ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا اٹل قانون ہے۔جو پہلی الہامی کتب میں بھی نظر آتا ہے۔یعنی اَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرى۔وَزَر کے ایک معنے تو گناہ کے ہیں لیکن میں جو تفسیر کر رہا ہوں وہاں گناہ کے معنی چسپاں نہیں ہوتے۔میری تفسیر کے مطابق بوجھ کے معنے ہیں یعنی خدا تعالیٰ کا یہ اٹل قانون ہے کہ کوئی جان دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھا سکتی جس کی استعداد پچاس اکائیاں ہے وہ اتنی اکائیوں کا بوجھ نہیں اٹھاسکتی جو پچاس اور ساٹھ کے درمیان فرق ہے یا پچاس اور سو